کورونا وبا: جرمنی انٹرنیشنل اسٹوڈنس کی کیسے مدد کر رہا ہے؟ | معاشرہ | DW | 04.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

جرمنی

کورونا وبا: جرمنی انٹرنیشنل اسٹوڈنس کی کیسے مدد کر رہا ہے؟

جرمنی میں ہنگامی اخراجات کے تحت غیر ملکی طلبا بھی مالی مدد کے حقدار ہو گئے ہیں۔ قبل ازیں وبا کے دنوں میں انہیں مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔

کورونا وبا کے عروج کے دنوں میں جرمنی میں زیر تعلیم بین الاقوامی طالب علموں کو روزانہ کے گزر بسر کے لیے خاصی جد و جہد کرنا پڑ رہی تھی۔ ایسی ایک مثال نیپال سے تعلق رکھنے والی دیکشا شرما کی ہے، انہیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ماہانہ بنیاد پر کم از کم پانچ سو یورو درکار ہوتے ہیں۔ وہ جرمن شہر اولڈن برگ میں رہتی ہیں، جو ہالینڈ کی سرحد سے زیادہ دور نہیں ہے۔

ابتدا میں دیکشا شرما کا خیال تھا کہ وہ اپنے والدین کی مدد کے بغیر جزوقتی ملازمت کر کے مالی معاملات حل کر لیں گی۔ اس کے لیے انہیں ورک پرمٹ حاصل کرنا تھا لیکن پھر کورونا کی وبا پہنچ گئی۔

مزید پڑھیے: طلبہ کا رخ امریکا اور برطانیہ کی بجائے جرمنی کی طرف

وبا کی وجہ سے طلبا کے ہاتھوں سے بھی جزوقتی نوکریاں نکلنا شروع ہو گئیں اور ان کا انحصار جمع کی گئی رقوم پر رہ گیا۔ ان حالات میں دیکشا شرما سمیت دوسرے طلبا کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ اس صورت حال کے حوالے سے فزکس کی طالبہ شرما کا کہنا ہے، ' گزشتہ تین ماہ بہت ہی مشکل رہے ہیں، ابھی بھی تین ماہ کا کرایہ ادا کرنا ہے اور میں دوبارہ اپنے والدین سے پیسے نہیں لینا چاہتی۔‘

Internationale Studierende in der Coronakrise (Deeksha Sharma)

جرمنی میں زیر تعلیم نیپالی اسٹوڈنٹ دیکشا شرما

اس صورت حال میں شرما کے ساتھیوں نے ابتدا میں اس کی مدد کرنا شروع کر دی۔ پھر اسے ایڈوائس آفس سے معلوم ہوا کہ ریاستی ترقیاتی بینک 'کے ایف ڈبلیو‘ (Kfw) سے انٹرنیشنل طالب علم کے طور پر وہ مالی قرضہ لینے کی اہل ہے۔ یہ ایسے غیر ملکی طلبا کے لیے ہے جو جرمن شہری نہیں ہیں اور انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ غیر ملکی طلبا کے لیے ایسے مالی قرضے کی سہولت جرمن حکومت کے ایک مالی امدادی پیکج کا حصہ ہے۔

انٹرنیشنل طلبا کے لیے مالی قرضے کی تفصیلات جرمن وزیر تعلیم آنیا کارلیسیک نے ایک پریس کانفرنس میں عام کی تھیں۔ وزیر کا اس پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ اس طرح قرضہ دینے کی مثال یورپ یا بین الاقوامی سطح پر میسر نہیں ہے۔ آنیا کارلیسیک نے اس انداز میں قرضہ دینے کو ایک منفرد عمل قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: نیا جرمن امیگریشن ایکٹ، ہنرمند افراد کے لیے مارچ سے جرمنی میں روزگار آسان

دیکشا شرما کے مطابق ماہانہ بنیاد پر ساڑھے چھ سو یورو کا قرضہ دیا گیا ہے جو بغیر کسی شرح سود کے ہے اور یہ رواں برس جولائی سے اگلے سال مارچ تک دستیاب ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ بینک سے رقم کی پہلی ٹرانسفر کے اٹھارہ ماہ بعد قرض واپس کرنے کی پہلی قسط ادا کرنا ہو گی یہ بہت ہی کم یعنی بیس یوری ماہانہ ہے۔ شرما کو یقین کے کہ وہ اس عرصے میں کوئی ملازمت یقیناً حاصل کر لیں گی اور ان کے مالی معاملات درست ہو جائیں گے۔

Internationale Studierende in der Coronakrise | Studenten haben es schwer einen Nebenjob zu finden (Imago Images/photothek/U. Grabowsky)

کورونا وبا: جرمنی میں زیر تعلیم بین الاقوامی طالب علموں کو جزوقتی نوکریاں ملنے میں مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔

دیکشا شرما سمیت آٹھ ہزار انٹرنیشنل طلبا نے رواں برس مئی میں مالی قرضہ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھی۔ قرضہ حاصل کرنے والے بیشتر طلبا کا تعلق ایران، بھارت، بنگلہ دیش، شام اور تیونس سے ہے۔ انہیں جرمن طلبا کے مقابلے میں قرضے کے حصول میں ایک ماہ زیادہ انتظار کرنا ہو گا۔ اس تاخیر کی وجہ 'کے ایف ڈبلیو‘ بینک نے بتائی ہے کہ انتظامی طور پر ممکن نہیں کہ قرضے کی پہلی قسط کا اجراء جون سے قبل کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کئی غیر ملکی طلبا ایسے قرضے کو حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ جرمن طلبا کے مقابلے میں انہیں قدرے سخت ضابطوں کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیے:جرمن ویزہ: طلبہ کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے، رپورٹ

آخن ٹیکنیکل یونیورسٹی کی پروٹیسٹنٹ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے ایک اہلکار کے مطابق قرضہ حاصل کرنے والے طلبا کو یونیورسٹی کے دس سیمیسٹرز (پانچ برس کی تعلیم) کے ابتدائی سیمیسٹر میں ہونا ضروری ہے۔ بیشتر طلبا آخری سیمیسٹر میں پہنچے ہوئے ہیں اور یہ جزوقتی کام کر کے اپنے مالی مسائل حل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

ع ح / ع آ (ریگینا برنکمان)

DW.COM