کورونا وائرس کی بھارتی قسم تشویش ناک  ہے، ڈبلیو ایچ او | حالات حاضرہ | DW | 11.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس کی بھارتی قسم تشویش ناک  ہے، ڈبلیو ایچ او

عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کی نئی بھارتی قسم اصل وائرس سے کہیں زیادہ متعدی ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ویکسین بھی اس کے مقابلے میں بے اثر ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے دس مئی بروز پیر کہا کہ بھارت میں گزشتہ اکتوبر میں پہلی بار  پائے جانے والے کورونا وائرس "واریئنٹ آف انٹریسٹ" کے مقابلے میں موجودہ کورونا وائرس کی نئی قسم، جسے 1۔B-617 کا نام دیا گیا ہے، اسے "واریئنٹ آف کنسرن" یعنی تشویش ناک وائرس کے زمرے میں کر دیا گيا ہے۔

یہ اعلان ڈبلیو ایچ او میں کورنا وائرس پر تحقیق کرنے والی ٹیم کی قیادت کرنے والی سائنسدان ماریہ وان کیرکوف نے کیا۔ ان کا کہنا تھا، "کچھ ایسی معلومات دستیاب ہوئی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ 1۔B-617  وائرس بہت تیزی پھیلتا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں صرف یہی ایک وائرس نہیں پھل رہا بلکہ برطانوی واریئنٹ بی۔1۔1۔7 بھی، جس کے تیزی سے پھیلنے کے پہلے ہی ثبوت مل چکے ہیں، بھارت میں موجود ہے۔

کیا بھارت کے نئے واریئنٹ کے خلاف ویکسین موثر ہے؟

اس طرح کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد کہ بھارت میں پائے جانے والے تیزی سے تغیر پذیر نئے وائرس کے خلاف شاید ویکسین بھی موثر ثابت نہ ہو، ڈبلیو ایچ کی سائنسدان نے کہا، "ہم بین الاقوامی سطح پر اسے تشویش ناک وائرس کے زمرے میں رکھ رہے ہیں۔"  ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قسم کا یہ نیا وائرس انڈيا کے باہر بھی کئی ملکوں تک پہنچ چکا ہے۔ 

Schweiz Genf | Maria van Kerkhove, WHO

ڈبلیو ایچ او میں کورنا وائرس پر تحقیق کرنے والی ٹیم کی قیادت کرنے والی سائنسدان ماریہ وان کیرکوف کے مطابق بھارتی وائرس کافی تشویش ناک ہے

انہوں نے کہا کہ گيارہ مئی بروز منگل جب عالمی ادارہ صحت وبائی امراض سے متعلق اپنی ہفتہ وار بریفنگ کرےگا تو اس وقت اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا، "ہمارے پاس ایسی کوئی معلومات تو نہیں ہیں جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ ہماری تشخیص یا علاج اور ہماری ویکسین کام نہیں کرتی ہیں۔"

ماریہ وان کیرکوف کے اس بیان کی ڈبلیو ایچ کو چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے بھی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "اب جو ہمیں معلوم ہے وہ یہ ہے کہ ویکسین کام کرتی ہے،  اور تشخیص کے ساتھ ساتھ جس سے عام وائرس کا علاج کیا جاتا ہے وہی علاج اس میں بھی کام کرتا ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ لوگوں کو، "جو بھی ویکسین میسر ہو اسے لگوا لینا چاہیے۔"

تشویش ناک تغیر پذیر وائرس کا مطلب کیا ہے؟

تشویش ناک تغیر پذیر وائرس اسے کہتے ہیں جو اصل وائرس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہو یعنی سن 2019 کے اواخر میں چین میں  کورونا وائرس کی جو ابتدائی قسم پائی گئی تھی اس سے کہیں زیادہ متعدی۔

اس سے قبل برازیل، برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں بھی تیزی سے تغیر پذیر وائرس کی نئی قسمیں دریافت ہو چکی تھیں اور انہیں بھی عالمی ادارہ صحت نے تشویش ناک زمرے میں شامل کیا تھا۔ اس فہرست میں اب ایک اور قسم کا اضافہ ہو گیا ہے۔   

ویڈیو دیکھیے 02:07

سکھوں کا گردوارہ کورونا کے مریضوں کے لیے آکسیجن کا ذریعہ

بھارت میں کورونا کا شدید بحران

بھارت میں گزشتہ  24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے تقریباً تین لاکھ تیس ہزار مزید متاثرین کے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ تقریبا تین ہزار نو سو مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔  بھارت گزشتہ تقریباً نصف ماہ سے  مسلسل ساڑھے تین یا پھر چار لاکھ یومیہ کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔

بھارت میں اس وبا سے متاثرین کی مجموعی تعداد دو کروڑ 29 لاکھ سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور اس وقت بھی تقریباً 38 لاکھ ایکٹیو کیسز ہیں جن کا اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ اب تک اس وبا سے ڈھائی لاکھ کے قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ اعداد و شمار حکومت کے جاری کردہ ہیں جبکہ بعض آزاد ذرائع کے مطابق اصل  انفیکشن اور ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ایک تو ملک میں ٹیسٹ کی سہولیات کم ہیں دوسرے اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے اس لیے بہت سے لوگوں کا گھروں میں ہی انتقال ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بیشتر اسپتال ایسے مریضوں کی موت کے سرٹیفکٹ پر کورونا لکھنے سے بھی گریز کرتے ہیں، جس سے اصل تعداد کا معلوم ہونا بہت مشکل ہے۔ پرائیوٹ ہسپتالوں میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کا بھی کوئی درست ریکارڈ نہیں رکھا جا رہا ہے۔

دریائے گنگا کی سطح پر تیرتی لاشیں

اس دوران ریاست بہار اور یوپی کے بعض علاقوں میں دریائے گنگا کی سطح پر تیرتی ہوئی درجنوں لاشیں پائی گئی ہیں جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پا یا جاتا ہے۔ بہار کے بکسر ضلع میں یوپی سے متصل سرحدی علاقے میں دریائے گنگا میں حکام نے تقریباً 45 لاشوں کے پائے جانے کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ شاید یہ لوگ کورونا کی وبا سے ہلاک ہوئے تھے اور ان کے لواحقین  ان کی آخری رسوم نہیں کر سکے اسی لیے انہیں دریا میں پھینک دیا گيا۔ تاہم ا ن کا کہنا تھا کہ یہ لاشیں بہار کی نہیں ہیں اور یو پی سے تیرتی ہوئی وہاں پہنچی ہیں۔ 

ریاست یو پی کے ضلع حمیر پور میں بھی مقامی لوگوں نے دریائے گنگا کی سطح پر متعدد لاشوں کو دیکھنے کے بعد حکام کو آگاہ کیا۔ مقامی لوگوں میں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ان لاشوں سے ان کے علاقے میں کووڈ 19 کی وبا نہ پھیل جائے۔ تاہم حکام نے ان خدشات کو مستر کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق اس وقت لاک ڈاؤن اور زیادہ اموات کے سبب ہندو رسم رواج کے مطابق لاشوں کو جلانے کے لیے لکڑی اور دیگر اشیا کی کافی کمی پائی جاتی ہے اسی لیے بہت سے لوگ اپنے لواحقین کی لاشیں دریا میں پھنکنے پر مجبور ہیں۔   

حالیہ دنوں میں جب کورونا کی وبا پر قابو پانا مشکل ہو گیا تو کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن جیسی پابندیوں کا نفاذ بھی کیا ہے جس کا ملک کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونت لگے ہیں جبکہ ملک میں پہلے ہی بے روزگاری  ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔      

ویڈیو دیکھیے 02:07

’’ہمارے دل ٹوٹ رہے ہیں، لیکن ہم اور کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘

DW.COM