کورونا وائرس کس طرح ہمارے باقی اعضاء پر حملہ آور ہو سکتا ہے؟ | سائنس اور ماحول | DW | 12.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

کورونا وائرس کس طرح ہمارے باقی اعضاء پر حملہ آور ہو سکتا ہے؟

اس وائرس کی مہلک نئی قسم پھیپھڑوں کو مفلوج کرتی ہے۔ لیکن اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ اس کا جارحانہ پیتھوجن جسم کے دیگر مرکزی اعضاء پر بھی حملہ آور ہوتا ہے۔

کووڈ۔انیس وائرس عام طور پر سانس کی نچلی نالی پر حملہ آور ہوتا ہے، جس سے مریض کو سانس کی تکلیف، خشک کھانسی اور پھر نمونیہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اب اشارے ملے ہیں کہ یہ وائرس جسم کے دیگر اہم اعضاء کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، جن میں دل، دماغ، گردے، اعصابی نظام، خون کی رگیں اور جِلد شامل ہیں۔

دل کا معاملہ

امریکا، چین، اٹلی اور دیگر ممالک سے ملنے والے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ یہ وائرس دل پر بھی حملہ آور ہوتا ہے کیونکہ ان ملکوں میں انتقال کر جانے والے مریضوں کی خاصی تعداد پہلے سے ہائی بلڈ پریشر اور دل کے دیگر عارضوں میں مبتلا تھی۔

ماضی میں بھی سارس اور مارس وبا کے دوران وائرس دل کو نقصان پہنچانے کا سبب بنا تھا اور اس وائرس کی نئی قسم کا پیتھوجن اُن سے کافی ملتا جلتا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ وائرس خود دل پر حملہ آور ہوتا ہے یا پھر انفیکشن کے دوران مدافعتی ردعمل کے باعث دل کو نقصان پہنچتا ہے۔ تاہم اس پر ابھی تحقیق جاری ہے۔

پھیپھڑوں کی کمزوری

اگر پھیپھڑوں کی بات کی جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا سے جو لوگ تندرست ہو جاتے ہیں بعض اوقات ان کے پھیپھڑے پوری طرح دوبارہ ٹھیک نہیں ہو پاتے۔

چینی محققین کے مطابق بعض ٹھیک ہو جانے والے مریضوں کے  پھیپھڑوں میں دودھیا رنگ کی پتلی سی جھلی دیکھی گئی ہے، جس سے پھیپھڑے مستقل طور پر خراب ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا اس وائرس سے پھیپھڑوں میں فائبروسس بنتا ہے۔ فائبروسس پھیپھڑوں میں سوجن پیدا کرتے ہیں جس کے باعث آکسیجن کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔ سانس لینے میں مشکل اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان کے لیے کام کاج کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ پھیپڑوں میں فائبروسس کا ابھی تک کوئی علاج نہیں۔

دماغ پر زور

اسی طرح کورونا کے اسی فیصد سے زائد مریضوں میں دیکھا گیا ہے ان کی سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر نزلے زکام میں اس قسم کی علامات کافی بعد میں سامنے آتی ہیں۔ لیکن اس انفیکشن میں یہ علامات ابتدائی دنوں میں محسوس کی جاتی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کہ کئی مریضوں میں کووڈ۔انیس اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے کیونکہ سونگھنے کا سیدھا تعلق ناک کے ذریعے دماغ کے سینٹرل نروس سسٹم سے ہے۔

چین اور جاپان کے محققین کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں میں کورونا کا نیا پیتھوجن دماغ تک پہنچ کر سانس سے متعلق حصے کو نقصان پہنچاتا ہے، جس کے باعث بعض عمر رسیدہ مریض یکا یک سانس لینا بند کر دیتے ہیں۔

جِلد کا نقصان

اسی طرح کئی ممالک سے اطلاعات ہیں کہ کورونا وائرس جلد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ڈاکٹروں کی طرف سے بچوں اور نوجوان مریضوں کے پیروں پر جامنی رنگ کے نشان دیکھے گئے، جو بظاہر خسرہ اور چکن پاکس سے ملتے جلتے ہیں۔ پیروں کی انگلیوں پر سوجن اور زخم اکثر خون جمنے یا فراسٹ بائیٹ جیسے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات جسم کے دوسرے حصوں پر بھی نشانات دانے پائے جاتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق قوی امکان ہے کہ یہ جلد کا یہ نقصان وائرس کی وجہ سے بلڈ کلاٹنگ کا نتیجہ ہو۔

(ایلکزینڈر فرائینڈ) ش ج / ع س