کورونا وائرس مخمصہ، ایبوپروفین کی گولی کھانا ہے یا نہیں؟ | صحت | DW | 19.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

کورونا وائرس مخمصہ، ایبوپروفین کی گولی کھانا ہے یا نہیں؟

کورونا وائرس انفیکشن ہو تو ایبوپروفین نہ لیں۔ پہلے اس خبر کو فیک نیوز کہا گیا مگر پھر عالمی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کیں کہ ایسی صورت میں واقعی ایبوپروفین سے احتراز برتا جائے۔ سوال یہ ہے کہ مسئلہ ہے کیا؟

ایبوپروفین سے جڑے ان نظریات کا منبع کیا ہے اور کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی انفیکشن یا سارس کوو ٹو کے انسانی جسم پر اثرات کیا ہیں، جو ایبوپروفین کے استعمال سے بگڑ سکتے ہیں؟

کووِڈ انیس کے مرض میں زیادہ خطرہ ان افراد کو ہے، جو پہلے سے بلند فشارِ خون، دل کے امراض یا ذیابیطس کی بیماری کا شکار ہیں۔ فقط اس لیے نہیں کہ ان کی صحت کم زور ہے بلکہ ممکنہ طور پر اس لیے بھی کیوں کہ وہ ایسی ادویات استعمال کر رہے ہوتے ہیں، جو SARS-Cov-2 انفیکشن کو سنگین بنا سکتی ہیں۔

دنیا کی ایک چوتھائی آبادی بلند فشار خون کا شکار ہے اور جرمنی جیسے صنعتی ممالک میں آبادی کا قریب ایک تہائی اس سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں لوگ اینٹی ہائپرٹینسِو ادویات مثلاﹰ اے سی ای انہیبیٹرز یا سارٹن کا استعمال کرتے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس انفیکشن ان ادویات کے استعمال کی صورت میں زیادہ سنگین شکل اختیار کر جاتی ہے۔

ذیابیطس کی ادویات مثلا انسولین سینیٹیائز تھیازولیڈینڈیون (گلٹازون) اور معروف پین کلر ایبوپروفین خصوصاﹰ بھی مشتبہ طور پر اے سی ٹو ریسپٹر کو متاثر کرتی ہیں، جس سے سارس وائرس کا خلیات میں داخلہ آسان ہو جاتا ہے۔

Deutschland Biotech-Unternehmen CureVac

مختلف محققین اس وائرس کے خلاف دوا کی تیاری کے لیے تحقیق میں مصروف ہیں

گو کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی اور اس حوالے سے ابھی معتبر تحقیق بھی نہیں کی گئی، مگر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس انفیکشن کی صورت میں ایبوپروفین معالج کی مرضی کے بغیر نہ لی جائے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہدایت ہے کہ کورونا وائرس انفیکشن کی صورت میں پیراسیٹامول استعمال کی جائے۔

جرمنی کے معروف وائرولوجسٹس کسی مطالعاتی تحقیق کی عدم موجودگی میں ایبوپروفین کو ایسے منفی اثرات سے جوڑنے میں محتاط رویے کے حامل رہے ہیں۔ اسی طرح ایسپرین وغیرہ سے متعلق بھی ماہرین محتاط طرز عمل کے حامل رہے ہیں۔ جرمنی کے بیرنہارڈ نوخٹ انسٹیٹیوٹ فار ٹروپیکل میڈیسن BNITM سے وابستہ وائرولوجسٹ ژوناس شمٹ کے مطابق، ''ہم سارس کوو ٹو کے پیتھوجینیسِس کے بارے میں کم جانتے ہیں۔ اس حوالے سے کلینیکل ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔‘‘

وائرولوجسٹ کرسٹیان ڈروسٹن بھی اس حوالے سے شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایبوپروفین کے ایسے منفی اثرات کے حوالے سے اب تک کوئی ڈیٹا سامنے نہیں آیا، تاہم مستقبل میں اس حوالے سے مزید تحقیق کئی امور کی وضاحت کر سکے گی۔

الیگزانڈر فروئنڈ (ع ت، م م )