کورونا وائرس: فارما انڈسٹری کی حکمت عملی بدل سکے گی؟ | حالات حاضرہ | DW | 15.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس: فارما انڈسٹری کی حکمت عملی بدل سکے گی؟

پیر کو عالمی مشاورتی ادارے ’ایرنسٹ اینڈ یونگ‘ کی طرف سے شائع کردہ ایک مطالعاتی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ پچھلے سال دنیا کی معروف دواساز کمپنیوں کا بڑا حصہ انسداد کینسر ادویات کی تیاری پر مرکوز رہا تھا۔

بہت سی معروف دوا ساز کمپنیوں نے اب تک کینسر کی دوائیوں کی تیاری پر توجہ مرکوز رکھی۔ ایک معروف اقتصادی مشاورتی ادارے 'ایرنسٹ اینڈ یونگ‘ (یا ای وائی) کے ایک تازہ مطالعے میں اس پر غور کیا گیا ہے کہ آیا مستقبل میں وائرس سے متعلق تحقیق کو اس سے بھی زیادہ منافع بخش کاروباری ماڈل مل سکتا ہے یا نہیں۔

پیر کو عالمی مشاورتی ادارے 'ایرنسٹ اینڈ یونگ‘ کی طرف سے شائع کردہ ایک مطالعاتی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ پچھلے سال دنیا کی معروف دواساز کمپنیوں کا بڑا حصہ انسداد کینسر ادویات کی تیاری پر مرکوز رہا تھا۔

اس مطالعے کی رپورٹ سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ گزشتہ برس یعنی 2019 ء میں کیلنیکل ڈیویلپمنٹ کے شعبے میں 2,586 فعال ایجنٹس  جبکہ اسی اثناء میں 605 اینٹی وائرس ایجنٹس پر کام ہوا۔ اس پورے عرصے میں ادویات ساز کمپنیوں کو سب سے زیادہ منافع کینسر یا سرطان سے جُڑی سرگرمیوں سے ہوا اور انہوں نے اپنے منافع میں واضح اضافہ کر کے اسے 174 بلین یورو تک پہنچایا۔

سن 2019 ہی میں انفکشن کے علاج کے لیے ادویات سازی سے ہونے والی آمدنی 46 بلین یورو تھی جو کہ پورے سال کے کاروبار میں پانچ عشاریہ ایک فیصد کا اضافہ بنتا ہے۔

جرمن شہر منہائم میں قائم 'ای وائی لائف سائنس سینٹر‘ کے سربراہ زیگفریڈ بیالوژان کہتے ہیں، ''اس امر کی توقع کی جائے گی کہ کورونا وائرس کے موجودہ بحران کے پیش نظر انفیکشن اور اینٹی بائیوٹک مزاحمت سے متعلق تحقیق  دوا ساز کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بن جائے گی۔‘‘

Großbritannien Virus Outbreak Impfung Symbolbild (picture-alliance/AP Photo/University of Oxford)

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں کورونا ویکسن پر تحقیق۔

زیگفریڈ بیالوژان کا مزید کہنا تھا، ''ساتھ ہی سب سے بڑی دوا ساز کمپنیوں کے اپنے طویل مدتی پروگراموں کو روکنے کے امکانات نہیں ہیں اور یہ شاید ہی کوویڈ 19 پر اپنی پوری توجہ مرکوز کریں گی۔‘‘ بیالوژان کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سادہ سی ہے۔ ''وبائی امراض کے بارے میں ایک کاروباری عنصر کے طور پر پیش گوئی نہیں کی جاسکتی، کیونکہ آپ کو کبھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب اور کس شکل میں سامنے آسکتے ہیں۔‘‘

کووڈ 19 کے اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے فارما انڈسٹری یا ادویات ساز صنعت کی توجہ کا مرکز کورونا وائرس بنے یا نہ بنے لیکن اس سے پیدا ہونے والی بیماری کووڈ 19 فارما سیکٹر پر ایک مختلف انداز میں اثرانداز ہوئی  ہے۔

ای وائی کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد 'منصوبہ بند انضمامات‘ معطل کر دیے گئے ہیں۔ یورپ، مشرق وسطی، بھارت اور افریقہ (EMEIA) خطے کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزری کے ای وائی لائف سائنس کے سربراہ الیگزینڈر نیوکن کا کہنا ہے کہ 'کمپنیاں محض آنے والے وقت میں حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ گرمیوں کے مہینوں کے بعد کیسی صورتحال ہوگی‘۔

ماہرین کا خیال ہے کہ  مستقبل بعید میں  ادویہ ساز کمپنیاں موجودہ کورونا وائرس کے بحران سے بہت کچھ حاصل کرسکتی ہیں اور اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرسکتی ہیں۔ ماہرین  اس وقت  اعداد و شمار کی فوری دستیابی اور پروسیسنگ کو بڑھانا اور تیز رفتار کرنے پر غیر معمولی زور دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا  ہے کہ اعداد و شمار کی دستیابی اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ مریضوں کو بہتر اور زیادہ تیزی سے مدد فراہم کی جا سکے۔

Indonesien | Eijkman Institut für Molekularbiologie forscht an einem Impfstoff für Corona (Eijkman Institute )

انڈونیشیا کے ایک مولیکیولر ُبائیولوجی انسٹیٹیوٹ میں بھی کورونا ویکسین تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

جدت کی طاقت


ای وائی کے مطابق کورونا وائرس کے بحران کے دوران فارما انڈسٹری بہت ہی کم وقت میں  160 سے زیادہ ممکنہ ویکسین اور 240 سے زیادہ علاج معالجے کے متحرک ایجنٹس کو پیش کرنے میں کامیاب  رہی ہے۔ ای وائی قریب 700 ٹیسٹوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے جو اس سال جون کے آغاز تک بڑی فارما کمپنیوں نے تیار کیے۔ ان میں سے کچھ پہلے ہی مارکیٹ میں لائے جا چکے ہیں۔

آئی وائی سے منسلک ایک کنسلٹینٹ الیگزانڈر نوئکین کہتے ہیں، ''اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کمپنی منظور شدہ اینٹی کورونا وائرس ویکسین کی دوڑ جیتتی ہے، اس کے لیے یہ گیم چینجر ہوگی۔‘‘ تاہم انہوں نے خبردار کرتے ہوئے مزید کہا، ''اگرچہ ابھی بھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ سب کے لیے واقعی محفوظ اور موثر ویکسین آخر میں مل بھی پائے گی۔‘‘

الیگزانڈر نوئکین کے مطابق، ''ہمارا اندازہ ہے کہ ابھی جانچ کی جانے والی ویکسینوں میں سے 97 فیصد کو منظور نہیں کیا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت ساری کمپنیوں نے بڑی مقدار میں جو R&D رقم خرچ کی وہ محض ضایع ہوئی۔‘‘

ہارڈی گراؤپنر/ ک م/ ش ح

DW.COM