کورونا وائرس سے لگنے والی بیماری کووڈ کی نئی علامات کیا ہیں؟ | سائنس اور ماحول | DW | 24.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

کورونا وائرس سے لگنے والی بیماری کووڈ کی نئی علامات کیا ہیں؟

کیسے معلوم ہو کہ مجھے کووِڈ ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا سامنا ہم عالمی وبا کے آغاز سے اب تک مسلسل کر رہے ہیں اور حتمی درست جواب سے ہم واقف نہیں۔ ایسے میں عام زکام کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

2020 میں خشک کھانسی اور بخار کووِڈ انیس کی عمومی علامات تھیں۔ ان کے علاوہ سر درد اور جوڑوں میں تھکاوٹ کی علامات زکام جیسی کیفیت سے ملتی جلتی تھیں۔  گلے میں خراش اور ہلکا سا زکام، یہ علامات نزلے کی طرح کی تھیں۔ عالمی وبا کے آغاز پر کووِڈ انیس کی بیماری کو اسی طرح سادہ الفاظ میں بیان کیا جاتا رہا ہے۔ پھر اس انفیکشن سے متعلق یہ پتا چلا کہ بعض صورتوں میں اس کا شکار شخص سونگھنے اور چکھنے کی حس بھی کھو بیٹھتا ہے۔ یہ بات اب بھی ایک طرح سے طے ہے کہ جب کوئی شخص اپنے سونگھنے یا چکھنے کی حس میں تبدیلی دیکھے، تو اسے کووِڈ کی انتباہی گھنٹی ہی سمجھے۔

کووڈ انيس سے صحت يابی کے کئی ماہ بعد بھی علامات برقرار رہتی ہيں، نئی ریسرچ

کورونا وائرس کا تیز ترین پھیلاؤ: غیر ظاہری علامات والے بچے

دیگر علامات کے مقابلے میں معاملہ مختلف ہے۔ محققین خون کے گروپ کے ساتھ اس وائرس کی علامات کے تعلق اور تنوع پر کام کر رہے ہیں۔ علامات کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ آیا متاثرہ شخص ویکسین کا حامل ہے یا متاثرہ شخص پر کورونا کے کس ویریئنٹ نے حملہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کسی شخص کی عمر، طبی حالت اور صحت سے جڑے دیگر امور بھی ممکنہ علامات طے کرتے ہیں۔

پانچ نئی اہم علامات

برطانیہ میں ہونے والی ایک تازہ تحقیق میں ایک ایپ کے ذریعے کورونا وائرس کے شکار افراد کی رائے لی گئی۔ اس تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی علامات بہ ظاہر تبدیل ہوئی ہیں۔ ممکن ہے کہ اس وقت برطانیہ میں 99 فیصد انفکیشن کی وجہ ڈیلٹا ویریئنٹ ہو۔

Infografik COVID-19, Grippe, Erkältung: die Symptome EN

کورونا، زکام اور نزلے کی علامات اور فرق

مکمل طور پر ویکسینیٹڈ افراد میں علامات

اس ایپ کے ذریعے کورونا وائرس کے شکار تمام تر افراد نے اپنی اپنی علامات محققین کے ساتھ شیئر کیں مگر اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد جو ویکیسین لگوا چکے تھے، ان میں یہ علامات بہت کم دیکھی گئیں، جس سے نظر آتا ہے کہ ویکسینیشن کے بعد اس وائرس کا نشانہ بننے والے افراد جلد صحت یاب ہوئے اور شدید بیمار نہ ہوئے۔

اس مطالعاتی رپورٹ کے مطابق ویکسینیٹڈ افراد بھی اس وائرس کا نشانہ بن سکتے ہیں مگر ایسے افراد میں علامات نہایت کم ہوتی ہیں اور یہ کہ ویکسین اس وائرس کی وجہ سے جان کو لاحق خطرے جیسی خطرناک صورت حال سے بچا لیتی ہے۔

سر میں درد، بہتی ناک، چھینکیں، خراب گلا اور سونگھنے کی حس کھو دینا عام علامات ہیں۔ اسی وجہ سے عام افراد ان دونوں میں بروقت فرق نہیں کر سکتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہی بات برطانیہ میں ڈیلٹا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

ویکسین نہیں لگی، تو علامات کیا رہیں؟

اس مطالعاتی رپورٹ کے مطابق کئی علامات پچھلے برس کے مقابلے میں مختلف ہیں، مگر کئی ایسی ہیں جو تبدیل نہیں ہوئیں۔

سر میں درد، خراب گھلا، بہتی ناک، بخار اور مسلسل کھانسی اس وقت اس بیماری کی عمومی علامات ہیں۔ علامات کی فہرست میں خوشبو یا بدبو سونگھنے کا احساس ختم ہو جانا اب علامات کی فہرست میں نویں نمبر پر ہے جب کہ سانس لینے میں مشکل کی علامت اس فہرست میں تیسویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔

پریشان مت ہوں

کورونا وائرس اپ ڈیٹ سے متعلق ایک پوڈکاسٹ میں جرمن وائرولوجسٹ کرسٹیان ڈروسٹن نے اس مطالعے کے نتائج بیان کیے۔ ڈروسٹن نے کہا کہ معمر افراد کی بڑی تعداد چوں کہ ویکسین لگوا چکی ہے، اس لیے ان میں اس وائرس کی علامات پچھلے برس کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ تاہم نوجوانوں میں کورونا وائرس ایک عام زکام کی طرز کی علامات کا حامل ہے ۔ انہیں سر میں درد، گلے میں خراش اور قدرے بخار جیسی علامات کا سامنا بھی ہوتا ہے۔

ڈروسٹن نے کہا کہ سب سے بہتر اور قابل بھروسا حل یہی ہے کہ جہاں آپ کو شک محسوس ہو، آپ فوراﹰ ٹیسٹ کریں۔

ع ت، م م (لوئیزا رائٹ/ فابیان شمڈٹ)

یہ آرٹیکل انگریزی سے ترجمہ کیا گیا۔