کورونا وائرس: سعودی عسکری اتحاد کا یمن میں جنگ بندی کا اعلان | حالات حاضرہ | DW | 09.04.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا وائرس: سعودی عسکری اتحاد کا یمن میں جنگ بندی کا اعلان

یمن میں ہلاکت خیز کورونا وبا سے مقابلہ کرنے کے اقدامات کے تحت سعودی عرب کی قیادت والے عسکری اتحاد نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف 9 اپریل سے دو ہفتہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

 دو ہفتے کی اس بندی سے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت اورحوثی باغیوں کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے، جو گذشتہ پانچ برس سے بھی زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا ہیں۔

سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے بدھ کے روز یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا”ہمیں توقع ہے کہ حوثی اسے قبول کریں گے۔ ہم یمن میں کووڈ۔انیس سے جنگ کے لیے میدان تیار کررہے ہیں۔"

اس اعلان پر حوثی باغیوں یا یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی طرف سے فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

پہلی براہ راست امن مذاکرات

ترکی المالکی نے کہا کہ جنگ بندی کا اعلان اقوام متحدہ کی اپیل کے جواب میں کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی ادارے نے یمنی شہریوں کو کورونا وائرس کی وبا سے بچانے کے لیے جنگ روکنے کی اپیل کی تھی۔ مالکی نے کہا کہ اگر حوثی باغیو ں نے اس اعلان کا مثبت جواب دیا تو جنگ بندی کی مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔

سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کا کہنا تھا ”یہ یمن میں ایک پائیدارجنگ بندی اور ایک جامع سیاسی حل کے حوالے سے باہم متحارب فریقین کے درمیان تجاویز، اقدامات اورمیکینزم پر تبادلہ خیال کے لیے راستہ ہموار کرسکتا ہے۔"

مارچ 2015 میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے مجوزہ امن مذاکرات دونوں فریقین کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت ہوگی۔ یمن میں جاری جنگ کی وجہ سے ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد کھانے پینے کی چیزیں اوردواوں کی قلت سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ نے یمن میں جاری تصادم کو دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔

اقو ام متحدہ کی مداخلت

اقو ام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے سعودی عسکری اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور یمنی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ کو فوراً روکنے کے اپنے وعدوں کو پورا کرے۔ گوٹیرس نے دنیا بھ میں جاری تصادم میں شامل فریقین سے حال ہی میں اپیل کی تھی کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے خلاف جنگ کے لیے وہ جنگ بندی کا اعلان کریں۔

انہوں نے کہا تھا”اس سے نہ صرف امن کے قیام کی کوششوں کو مدد ملے گی بلکہ کووڈ۔انیس کی وبا کا مقابلہ کرنے میں بھی ممالک کے اقدامات کو تقویت حاصل ہوگی۔

خیال رہے کہ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسیز اور حوثیوں کے درمیان جاری جنگ میں گذشتہ دس دنوں کے اندر کافی شدت آئی ہے۔ اس دوران 270 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی حکومت یمن میں اقو ام متحدہ کی انسانی اقدامات کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کا تعاون دے گی۔  حالانکہ یمن میں ابھی تک کووڈ۔انیس کا کوئی مصدقہ معاملہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن ملک کے خستہ حال نظام صحت کے مدنظر بین الاقوامی امدادی گروپوں کا خیال ہے کہ اگر یہاں کورونا وائرس کا حملہ ہوا تو اس کے اثرات انتہائی بھیانک ہوں گے۔

ج ا / ص ز (اے پی، ریوٹرز، اے ایف پی)

DW.COM