کورونا: بھارت، روس کو پیچھے چھوڑ کر تیسرے نمبر پرپہنچ گیا | حالات حاضرہ | DW | 06.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کورونا: بھارت، روس کو پیچھے چھوڑ کر تیسرے نمبر پرپہنچ گیا

بھارت میں کورونا وائر سے متاثر اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں ہر روز ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے اورتقریباً سات لاکھ متاثرین کے ساتھ روس کوپیچھے چھوڑ کر بھارت اب دنیا میں تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے۔

 بھارت میں اتوار کے روز صرف ایک دن میں تقریباً پچیس ہزار نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 613 لوگوں کی موت ہوگئی۔ اسی کے ساتھ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ لاکھ 98 ہزار 233 ہوگئی ہے جبکہ اب تک 19 ہزار 703 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

امریکا کی جان ہاپکنس یونیورسٹی کے مطابق بھارت نے کورونا سے متاثرین کے معاملے میں روس کوپیچھے چھوڑ دیا ہے۔ روس میں متاثرین کی تعداد 6 لاکھ 81 ہزار اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار 161 ہے۔ بھارت سے آگے اب صرف برازیل اور امریکا ہیں۔ جہاں متاثرین کی تعداد بالترتیب 16لاکھ اور 29 لاکھ کے قریب ہے۔

بھارتی وزارت صحت نے اتوار کے روز بتایا کہ ایک دن میں تقریباً پچیس ہزار نئے کیسز سامنے آئے اور 613 لوگوں کی کووڈ 19سے موت ہوگئی۔ جنوری میں پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے یہ ایک دن میں کووڈ 19 کے نئے کیسزکی سب سے بڑی تعداد ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب تک 4 لاکھ 25 ہزار کے قریب مریض صحت یا ب بھی ہوئے ہیں اور یہ تعداد کوئی 57  فیصد کے قریب ہے۔ 

وزارت صحت نے مزید بتایا کہ دہلی میں کورونا سے متاثرین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ پہنچ چکی ہے جبکہ مہاراشٹر میں یہ تعداد دو لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔  جنوبی ریاست تمل ناڈو ایک لاکھ گیارہ ہزار متاثرین کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

تاج محل کھولنے کا فیصلہ ملتوی
حکومت نے آگرہ کے تاج محل کوتقریباً تین ماہ تک بند رکھنے کے بعد بعض شرائط کے ساتھ 6 جولائی سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم بعد میں اپنافیصلہ واپس لے لیا۔

حکومت نے نئی ایڈوائزری جاری کرکے کہا کہ تاج محل اور آگرہ میں دیگر تاریخی عمارتیں سیاحوں کے لیے فی الحال بند رہیں گی۔ حکومت نے نئی ایڈوائزری میں یہ نہیں بتایا کہ محبت کی اس علامت کو کب تک بند رکھا جائے گا۔ضلع انتظامیہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ”عوام کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا بیا ہے کہ آگرہ میں واقع تاریخی عمارتوں کو سیاحوں کے لیے فی الحال کھولنا مناسب نہیں ہوگا۔“ خیال رہے کہ یہ عمارتیں مارچ سے ہی بند ہیں۔

حکومت نے اپنے سابقہ اعلان میں کہا تھا کہ تاج محل کو سیاحوں کے لیے بعض شرائط کے ساتھ کھولا جارہا ہے۔ یہاں آنے والوں کو ہر وقت ماسک پہننا ہو گا اور انہیں اس کے سنگ مرمر کی دیواروں اور فرش کو چھونے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ ایک دن میں صرف پانچ ہزار افراد کو اندر جانے کی اجازت ہوگی۔جو یہاں روزانہ آنے والوں کی عمومی تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ کورونا وائرس سے قبل ایک دن میں اوسطا ً 80 ہزار افراد تاج محل دیکھنے آتے تھے۔

ایک مقامی ضلعی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم تاج محل میں زیادہ افراد کی آمد کی توقع نہیں کررہے ہیں کیونکہ تاج محل کے اطراف کے تمام علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پابندیاں عائد اور سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ اس کی وجہ سے دکانیں اور ہوٹل بند ہیں اور لوگوں کو محض ضروری اشیا کی خریداری کے لیے نقل و حرکت کی اجازت ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی وبا کے مدنظر حکومت نے25 مارچ سے ملک گیر لاک ڈاون کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں بندشوں میں تھوڑی نرمی کی گئی ہے اور بعض تجارتی سرگرمیوں کی مشروط اجازت دے دی گئی کیوں کہ لاک ڈاؤن کے باعث کروڑوں افراد بے روزگار اور کاروبار بند ہو گئے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:10

بھارت: قیدیوں سے بھری جیلیں، کووڈ انیس کا گڑ بن سکتی ہیں

DW.COM