کوئٹہ: طالبان کا حملہ کم از کم دس ہلاک، پچپن زخمی | حالات حاضرہ | DW | 06.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کوئٹہ: طالبان کا حملہ کم از کم دس ہلاک، پچپن زخمی

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مرکزی علاقے عدالت روڈ کے قریب ایک خودکش حملے کے نتیجے میں کم ازکم 10 افراد ہلاک جبکہ 55 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

Anschlag in Quetta 11.11.2014

یہ خودکش حملہ سکیورٹی فورسز کے قافلے پر اس وقت کیا گیا جب سکیورٹی اہلکار ضلعے کچہری کے قریب سے گزر رہے تھے

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی کے بقول خودکش حملہ سکیورٹی فورسز کے قافلے پر اس وقت کیا گیا جب سکیورٹی اہلکار ضلعے کچہری کے قریب سے گزر رہے تھے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، " اس حملے کا نشانہ سکیورٹی اہلکار تھے۔"

خودکش حملہ اور جو ایک سائیکل پر سوار تھا نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب فورسز کا قافلہ عدالت روڈ سے گزر رہا تھا۔ حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ خود کش حملہ اور کے جسم کے اعضاء ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے تحویل میں لے لئے گئے ہیں ۔" سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ خود کش حملے کے بعد کوئٹہ میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا،"کوئٹہ ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے ۔ یہ دہشت گردی کی روان سال سامنے انے والے اس لہر کا ایک تسلسل ہے جس میں سکیورٹی فورسز کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آج سریاب روڈ پر پولیس اہلکاروں پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین دیگر اہلکار زخمی ہوئے تھے۔"

صوبائی حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ کے مطابق دہشت گردوں کا یہ حملہ سکیورٹی فورسز کی ان کامیاب کارروائیوں کا رد عمل ہے جن میں انہیں بد ترین شکست سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، "یہ تمام حملے ایک منظم سازش کا حصہ ہیں دہشت گرد اس قسم کے حملوں کے ذریع حکومت کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔ خود کش حملوں کو روکنا بہت مشکل ہے لیکن حکومت نے ایسی حکمت عملی وضع کی ہے کہ ان حملوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ اگر خودکش حملہ اور ضلعی کچہری کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتا تو نقصان اس سے کئی زیادہ ہو سکتا تھا۔" دہشت گردوں کے مذموم مقا صد کو ناکام بنانے کے لئے حکومت تمام وسائل برو ئے کار رہی ہے ۔"

خودکشن حملے کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں اور کئی سرکاری اور نجی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ ائی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے بلوچستان میں جاری آپریشن کو مزید تیز کیا جائے گا۔

عدالت روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ،"دہشت گردی میں ملوث تمام دہشت گردوں کا جلد خاتمہ کر دیں گے ۔ یہ حملے وہ لوگ کروا رہے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف ہماری جاری جنگ کو ناکام بنانا چاہتے ہیں ۔ عوام کے لئے امن کی فضاء یقینی بنانے کے لئے ایف سی کسی قربانی سے گریز نہیں کرے گی ۔ " آئی جی ایف سی نے کہا کہ دہشت گرد پسپا ہو رہے ہیں اس لئے بے گناہ افراد کو نشانہ بنا کر اپنے مذموم مقاصد حآصل کرنا چاہتے ہیں۔

Pakistan Anschlag bei einer Polio-Impfstation in Quetta

اس خود کش حملے کے بعد کوئٹہ میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

انہوں نے کہا ،"جب تک ہم صوبے میں امن نہیں لائیں گے چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔ دہشت گردوں کا مقصد یہ ہے کہ سکیورٹی ایجنسیاں ان کے خلاف جاری آپریشن روک دیں ، لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا ۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جو لوگ یہاں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں انہیں بہت جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔" اس خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کے خراسانی گروپ نے قبول کی ہے ۔

حکومت بلوچستان نے حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لئے فی کس 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر ممنون حسین نے خود کش حملے کی مذمت کرتے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیاں مزید تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب حکومت بلوچستان نے حملے کی تحقیقات کے لئے دو خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو کہ دو ہفتوں میں حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ تحقیقاتی ٹیموں میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران بھی شامل کئے گئے ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار