کم جونگ اِل کی رحلت: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک منٹ کی خاموشی | حالات حاضرہ | DW | 23.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کم جونگ اِل کی رحلت: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک منٹ کی خاموشی

اقوام متحدہ کے ادارے جنرل اسمبلی میں کمیونسٹ ملک شمالی کوریا کے رحلت پا جانے والے لیڈر کِم جونگ اِل کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی کا اہتمام کیا گیا۔ امریکہ اوراس کے حلیف ملکوں نے اس اہتمام کا بائیکاٹ کیا۔

جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شمالی کوریا کے آنجہانی لیڈر کِم جونگ اِل کو خراج عقیدت پیش کرنے کی خاطر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کی درخواست شمالی کوریا کی جانب سے کی گئی تھی۔ ہال میں موجود سفارت کاروں نے اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر خاموشی اختیار کی۔ اس موقع پر جنرل اسمبلی کے قطر سے تعلق رکھنے والے صدر ناصر عبدالعزیز الناصر نے کِم جونگ اِل کے خاندان سے جنرل اسمبلی کی جانب سے تعزیت کی۔

خاموشی اختیار کرنے کے وقت 193 ویں اراکین پر مشتمل جنرل اسمبلی کا آدھا ہال خالی تھی۔ اس کی وجہ امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ان کے حامی ملکوں کی جانب سے اس سیشن کا بائیکاٹ تھا۔ قطری سفارت کار ناصر عبدالعزیز الناصر کے مطابق بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کے نزدیک کِم جونگ اِل کے لیے احتراماً خاموشی اختیار کرنا کچھ نامناسب تھا۔

ایک یورپی سفارت کار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر کہا کہ کِم جونگ اِل ایک ایسا نام ہے جو غالباً ہزاروں افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے اور وہ کسی طور اقوام متحدہ کے لیے ماڈل قرار نہیں ہو سکتا۔ اسی منگل کے روز اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری Asha-Rose Migiro اقوام متحدہ میں واقع شمالی کوریا کے مشن میں بھی گئے تھے اور انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے رکھی گئی تعزیتی کتاب پر دستخط بھی کیے تھے۔

دوسری جانب شمالی کوریا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جنوبی کوریا سے تعزیتی وفود کی آمد کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ اس اعلان میں کہا گیا کہ جنوبی کوریا سے آنے والے وفود کی سلامتی اور حفاظت کی ذمہ دار بھی پیونگ یانگ حکومت ہو گی۔ یہ اعلان شمالی کوریا کی ایک سرکاری ویب سائٹ Uriminzokkiri پر جاری کیا گیا۔ اعلان کے مطابق تمام راستوں سے تعزیت کے لیے آنے والے مندوبین کو راہداری فراہم کی جائے گی۔ ویب سائٹ پر جنوبی کوریائی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے رویے کا احترام کرتے ہوئے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے کمیونسٹ ملک کے اعلان کے جواب میں کہا ہے کہ وہ کِم جونگ اِل کی اگلے بدھ کو ادا کی جانے والی آخری رسومات میں شرکت کے لیے صرف دو وفود کو جانے کی اجازت دے گی۔ اس دوران شمالی کوریا اور جنوبی کوریا میں تناؤ اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سیئول حکومت نے شمالی کوریا کی عوام سے ان کے لیڈر کِم جونگ اِل کی رحلت پر اظہار ہمدردی کیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار