کلائمیٹ ایمرجنسی: سن 2019 میں لوگ کو کچھ کرنے کا احساس ہوا | سائنس اور ماحول | DW | 26.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

کلائمیٹ ایمرجنسی: سن 2019 میں لوگ کو کچھ کرنے کا احساس ہوا

کرہ ارض کو اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی شدت کا سامنا ہے۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پہلی مرتبہ رواں برس تحفظ ماحول کے لیے عالمی سطح پر بڑے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

سن 2019 کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مظاہروں میں دنیا بھر کے بچے خاص طور پر شریک ہوئے۔ اس کی وجہ سویڈش ٹین ایجر گریٹا تھنبرگ کی تحریک 'فرائیڈیز فار فیوچر‘ کو قرار دیا گیا ہے۔ اسی تحریک کی وجہ سے انہیں کئی حلقے اور تنظیمیں امن کے نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کر بیٹھی تھیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تھنبرگ کی تحریک ہی سے سن 2019 کے اہم مسائل و معاملات میں ماحولیاتی تبدیلیوں کو اہمیت حاصل ہوئی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مختلف تنظیموں نے تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا بھی مشورہ دیا لیکن اس خیال کو پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔ اس تناظر میں کہا گیا کہ جب امید مرنے لگتی ہے تو عمل شروع ہوتا ہے لہذا اقوام عالم سے ماحولیات کو بہتر کرنے کی توقعات کم ہونے کے بعد ہی ایمرجنسی کی صورت حال کے تناظر میں عوامی احتجاج نے سر اٹھایا۔

Symbolbild Klima 2019

دنیا بھر کے کئی ممالک میں کلائمیٹ ایمرجنسی کے تناظر میں عام لوگوں نے صدائے احتجاج بلند کی

سن 2015 کی پیرس کلائمیٹ ڈیل میں یہ طے پایا تھا کہ زمین کے درجہٴ حرارت میں کم از کم دو ڈگری سینٹی گریڈ کی کمی لانا ضروری ہو گیا ہے۔ اس کے چار ہی سال بعد ماحولیاتی ایمرجنسی کی صورت میں اب درجہٴ حرارت 1.5 ڈگری کی حد تک کم کرنے کی باتیں شروع ہو چکی ہیں۔ زمین کے درجہ حرارت میں سن 2018 کے مقابلے میں ایک ڈگری کا اضافہ ہو چکا ہے۔

ماحولیاتی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ نصف ڈگری کی زیادتی بھی اب زمین کے ماحول کے لیے خطرناک ہو گی اور اس وجہ سے زمین پر ناقابل تلافی تبدیلیاں رونما ہونے کا قوی امکان ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق کہنے کو یہ نصف ڈگری ہے لیکن اس کے منفی اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ اُن کا حساب لگانا تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے۔

Symbolbild Klima 2019

سن 2019 میں ماحول دوستوں کے مظاہروں طلبہ کی کثیر تعداد نے بھی حصہ لیا

فرانس سے تعلق رکھنے والی ماحول دوست کورین لےکوئر کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تیس برسوں سے ماحولیاتی معاملات سے جڑی ہیں لیکن انتیس برس اُن کے کام کو اہمیت نہیں دی گئی لیکن سن 2019 میں وہ اور اُن کے ساتھی اطمینان پانے میں کامیاب رہے کہ ان کی برسوں کی محنت لاحاصل نہیں رہی اور اب اُن کی کاوشوں کو مختلف حکومتوں نے اہمیت دینا شروع کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے سن 2030 تک کاربن کے اخراج میں 7.6 فیصد کی لازمی کمی کو اہم قرار دیا ہے اور ایسا کرنے سے امکان ہے کہ زمین کے درجہٴ حرارت میں 1.5 فیصد کی کمی ہو جائے گی۔ ختم ہونے والے سال میں اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل کلائمیٹ کانفرنس میں بڑے فیصلے تو نہیں ہو سکے لیکن ترقی یافتہ اور غریب ممالک میں ماحول کو بہتر بنانے کے معاملے پر کمپرومائز ضرور ہوا ہے۔

ع ح : ا ا (اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 01:20

اسموگ کا ممکنہ حل

DW.COM