کشمیر میں طالبان کے حوالے سے فکر نہ کریں، بھارتی فوج | حالات حاضرہ | DW | 30.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کشمیر میں طالبان کے حوالے سے فکر نہ کریں، بھارتی فوج

بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ کشمیر کی سکیورٹی ان کے ہاتھ میں ہے اس لیے فکر کرنےکی ضرورت نہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان کامیاب جنگ بندی کی وجہ بھارتی طاقت ہے۔

بھارتی حلقوں میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے اثرات بھارتی زیر انتظام کشمیر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ملک اپنے مخالفین کا سامنا ایک نئی قوت کے ساتھ  کر رہا ہے اور وہ تمام چیلنجز کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔

 بھارتی فوج نے اتوار کے روز کہا کہ وادی کشمیر میں تمام تر سکیورٹی کی صورت حال پوری طرح سے ان کے کنٹرول میں ہے اس لیے طالبان کے حوالے سے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اس بارے میں قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی آمد سے کشمیر میں بھی جہادی سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں۔ لیکن خطہ کشمیر جس بھارتی فوج کی ٹکڑی کی کمان میں ہے اس کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔

 جنرل پانڈے کے بقول، ’’میں بیرونی لوگوں کے بارے میں تبصرہ کرنا نہیں چاہتا، لیکن یاد رکھیں یہاں سکیورٹی کی صورت حال پوری طرح سے ہمارے کنٹرول میں ہے اور اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

جنرل پانڈے سری نگر میں ہونے والے ایک کرکٹ میچ کے مہمان خصوصی تھے، جہاں صحافیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے یہ بات کہی۔ ادھر بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صورت حال بدلنے کی وجہ سے بھارت بھی اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہا ہے۔

بھارت کی حکمت عملی

بھارتی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کی نئی صورت حال کی وجہ سے ہی کواڈ ڈائیلاگ شروع کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’بدلتی ہوئی صورت حال نے نئے چیلنجز کو کھڑا کیا ہے اور اب ہر ملک اس پر غور کر رہا ہے۔‘‘ کواڈ میں امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت جیسے چار بڑے ملک شامل ہیں۔

اس موقع پر بھارتی وزير دفاع نے ایک بار پھر سے بغیر نام لیے پاکستان پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ پڑوسی ملک کے پاس، ’ہمارے ساتھ جنگ لڑنے کی صلاحیت نہیں ہے اسی لیے وہ اپنی دیرینہ پالیسی کے تحت  در پردہ جنگ اور دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پڑوسی ملک کا نام نہیں لینا چاہتے تاہم وہ آج بھی بھارت کو غیر مستحکم کرنے کے در پے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نئی حکمت عملی اور نظریہ قوت کے ساتھ نئے چیلنجز کا مقابلہ کر رہا ہے، ’’اگر آج جنگ بندی کامیاب ہے تو یہ ہماری طاقت کی وجہ سے ہے۔‘‘

بھارتی وزير دفاع کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نے 2016 میں سرحد پار حملہ کر کے رد عمل کے بجائے فعال ہونے کی اپنی تبدیل شدہ ذہنیت کا ثبوت دیا اور پھر  2019 میں بالا کوٹ پر فضائی حملہ کر کے اسے مزید مستحکم کیا۔

راج ناتھ سنگھ  نے بھارتی فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقین کہ بھارت نہ صرف اپنی سرزمین پر دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر ان کی سر سرزمین پر بھی انسداد دہشت گردی آپریشن کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سکیورٹی کا طریقہ کار اب کافی بدل چکا ہے، ’’مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے اپنی سیکورٹی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ ایک نئے نظریہ قوت کے تحت، ہم نے دہشت گردی کے خلاف اپنا رویہ فعال بنا دیا ہے۔‘‘

بھارتی کشمیر کے سینیئر صحافی امین مسعودی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں طالبان کے حوالے سے کچھ زیادہ ہی تذکرے ہو رہے ہیں اور ممکن ہے کہ کچھ حد تک اس کے اثرات بھی مرتب ہوں۔ تاہم ان کے مطابق، ’’بھارتی فورسز نے اس کے لیے پہلے ہی تیاری شروع کر دی تھی اور سرحدی علاقے سخت ترین نگرانی میں ہیں، اضافی فورسز بھی تعینات کی جا رہی ہیں۔ میرے خیال سے اب وہ پہلے سے زیادہ چوکس ہیں اس لیے کچھ زیادہ اثر نہیں ہو گا۔‘‘

مسعودی کے مطابق طالبان جنگجو پہلے بھی کشمیر آ چکے ہیں اور اس وجہ سے بھارتی فورسز کو ان کے بارے میں بہت کچھ پہلے سے معلوم ہے اور چونکہ کشمیر میں فوج کا ہر طرف پہرہ ہے اس لیے ان کی نقل و حرکت بھی آسان نہیں ہو گی،’’تاہم یہاں عسکریت پسندی میں اضافے کو خارج از امکان بھی نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘

چند روز قبل بھارتی افواج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بھی کہا تھا کہ طالبان پہلے بھی کشمیر آ چکے ہیں اور، ’ہم انہیں جانتے ہیں، ہماری سکیورٹی فورسز اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہیں‘۔

مبصرین کے مطابق ماضی میں طالبان اور کشمیر کا ربط تو رہا ہے تاہم اب جہاں حالات بدل چکے ہیں، وہیں آئندہ کئی ماہ تک طالبان خود افغانستان میں ہی الجھے رہیں گے اور فی الوقت خطے کے دوسرے علاقوں میں ان کے اثر و رسوخ کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

ویڈیو دیکھیے 02:11

’طالبان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا‘

DW.COM