کشمیر: اکاون دنوں میں تیرہ ہزار نوجوان لاپتہ، خواتین وفد کی رپورٹ | حالات حاضرہ | DW | 25.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کشمیر: اکاون دنوں میں تیرہ ہزار نوجوان لاپتہ، خواتین وفد کی رپورٹ

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین کے ایک وفد کا کہنا ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں حالات مایوس کن ہیں اور وہاں گزشتہ اکاون دنوں میں تیرہ ہزار سے زائدکشمیری نوجوان لاپتہ ہو چکے ہیں۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر کا دورہ کرنے والے اس پانچ رکنی وفد نے اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ پانچ اگست کے بعد سے چودہ سے چوبیس برس کی عمر کے گرفتار کیے گئے نوجوانوں کی اصل تعداد کے بارے میں حکومت کچھ نہیں بتا رہی ہے۔ پانچ خواتین کے اس وفد نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سترہ سے اکیس ستمبر کے دوران انہوں نے کشمیر کے، جن تین اضلاع کے اکیاون دیہات کا دورہ کیا، وہاں کے ہر گھر سے کسی نہ کسی نوجوان کو فوج اٹھا کر لے گئی ہے۔ اس وفد کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کشمیر میں تیرہ ہزار سے زائد نوجوان لاپتہ ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی  نئی دہلی حکومت نے تصدیق نہیں کی ہے۔

بھارتی پلاننگ کمیشن کی سابق رکن اور سماجی کارکن سعیدہ حمید کی صدارت میں اس پانچ رکنی وفد میں نیشنل فیڈریشن آف انڈین وویمن کی جنرل سکریٹری عینی راجا، انجمن ترقی پسند خواتین کی جنرل سکریٹری پونم کوشک، پنجاب یونیورسٹی کی سابق پروفیسر کنول جیت کور اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر اور سماجی کارکن پنکھڑی ظہیر شامل تھیں۔

پنکھڑی ظہیر نے وادی کشمیر میں موجودہ صورت حال کے حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،”وہاں ہر جگہ مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ خوف کا ماحول ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ کب آرمی آئے گی اور ان کے گھر سے کسی نوجوان کو اٹھا کر لے جائے گی۔ لوگوں کی روزمرہ کی زندگی بالکل تباہ ہو چکی ہے۔ عورتیں گھروں سے باہر نکل نہیں پا رہیں کیوں کہ انہیں آرمی کا خوف لاحق ہے۔‘‘

ترقی پسند ادیب سجاد ظہیر کی نواسی پنکھڑی ظہیر سے جب ڈی ڈبلیو نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس دعوے کی صداقت معلوم کی کہ کشمیر میں حالات تیزی سے معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں تو پنکھڑی کا کہنا تھا،”یہ بالکل جھوٹ ہے۔ ہم وہاں پانچ دن سے زیادہ رہ کر آئے ہیں۔ وہاں مواصلات کے سارے چینل بند ہیں۔ اگر امیت شاہ یا کوئی اور یہ دعو ی کر رہا ہے کہ حالات نارمل ہیں یا معمول کی طرف لوٹ رہے ہیں تو یہ بھی جھوٹ ہے۔ وہاں نہ تو ہسپتال ٹھیک سے کام کر رہے ہیں اور نہ ہی بازار کھل رہے ہیں۔ اسکول اور کالج بند ہیں۔ آرمی پولیس کا کام کر رہی ہے۔ لوگوں پر زیادتیاں ہو رہی ہیں اور انہیں احتجاج کرنے کی اجازت تک نہیں دی جا رہی ہے۔‘‘

پنکھڑی ظہیر کا کہنا تھا کہ اس پوری صورت حال میں سب سے بری حالت کشمیری خواتین کی ہے،”ذرا اس ماں کے بارے میں سوچیے، جس کے بچے کو آرمی اٹھا کر لے گئی ہو اور اسے یہ بھی پتہ نہ ہو کہ اس کا بچہ کہاں اور کس حال میں ہے؟ عورتوں کی حالت سب سے خراب ہے، وہ گھر سے باہر نکل نہیں پا رہی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ دفعہ 370 کو ختم کرنے کے نتیجے میں ہوا ہے۔‘‘

کشمیر ی چاہتے کیا ہیں؟ اس سوال کے جواب میں پنکھڑی ظہیر کا کہنا تھا،”ان لوگوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ ہمارا رشتہ آئین کی دفعہ 370 کی وجہ سے تھا۔ اسے ختم کر دینے سے ہمارا رشتہ بھی ٹوٹ گیا ہے لہذا اسے جلد از جلد بحال کیا جائے اور کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی فیصلے میں کشمیری عوام کو بھی شامل کیا جائے۔‘‘

سعیدہ حمیدکا کہنا تھا کہ اکیاون دن گزر جانے کے بعد بھی کشمیر میں صورت حال معمول پر آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ حکومت کے تمام دعوے جھوٹے ہیں۔ چونکہ میڈیا پر سینسرشپ جیسی صورتحال ہے، اس لیے سچائی سامنے نہیں آ رہی ہے۔ لوگ فوج کے خوف کے سایے میں جی رہے ہیں۔ آرمی کے جوان لوگوں کو ہراساں کرتے ہیں حتی کہ بعض اوقات خواتین کو نقاب اتارنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ رات آٹھ بجتے ہی سب کو اپنے گھروں کی روشنی بجھا دینی پڑتی ہے۔ ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی ذرائع بند ہیں، جن سے لوگوں کی اقتصادی حالت بھی بہت خراب ہوگئی ہے۔ فصلیں برباد ہو گئی ہیں اور سیب بھی تباہ ہو گئے ہیں۔‘‘

کشمیر میں پیدا ہونے والی سعیدہ حمید کا کہنا تھا،”وہ کشمیر سے انتہائی دل گرفتہ ہو کر واپس آئی ہیں۔ وہاں کے لوگوں اور بالخصوص بچوں، خواتین اور بوڑھوں کے حالات کو دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔‘‘

بھارتی خواتین تنظیموں کے اس وفد نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پانچ اگست کے بعد سے جن لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں انہیں منسوخ کیا جائے اور گرفتار نوجوانوں کو فوراً رہا کیا جائے۔