1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
یوکرائنی نیول ہیڈکوارٹرز پر روسی پرچم لہرا دیا گیاتصویر: Reuters

کریمیا: یوکرائنی بحريہ کے ہیڈکوارٹرز پر روسی فوج کا دھاوا

عابد حسین
19 مارچ 2014

کریمیا کے مقامی وزیر اعظم نے یوکرائنی وزیر دفاع کو کریمیا آنے کی اجازت نہیں دی تو دوسری جانب روسی افواج نے غیر مسلح شدت پسندوں کے ہمراہ بحیرہ اسود پر واقع یوکرائنی نیوی کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بول کر اپنا پرچم لہرا دیا۔

https://p.dw.com/p/1BSQj

کریمیا کے علاقائی وزیر اعظم سرگئی اکسینوف نے یوکرائن کے وزیر دفاع اور اول نائب وزیر اعظم کو کریمیا آنے سے روک دیا ہے۔ اس مناسبت سے اکسینوف کا کہنا ہے کہ کریمیا میں ان کا کوئی منتظر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی انہیں کریمیا میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔ اکسینوف کا مزید کہنا تھا کہ اگر وہ آئے تو انہیں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اسی دوران روس کی جانب سے کریمیا کو اپنی عملداری میں داخل کرنے کے حوالے سے ایک اور پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ روس کی دستوری عدالت نے متفقہ طور پر کریمیا کے روس کے ساتھ ادغام کے معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ دستوری عدالت کے چیف جج والیری زورکن نے اعلان کیا کہ الحاق کی دستاویز روسی دستور کے عین مطابق ہے۔

کریمیا کو روسی عملداری میں شامل کرنے کے بعد صدر ولادیمیر پوٹین کا کہنا ہے کہ یوکرائن کے بقیہ علاقوں میں وہ فوج کشی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ کریمیا کی صورت حال کے باعث سابقہ سوویت یونین کی ديگر ریاستیں بھی روسی فوج کشی کا خوف رکھتی ہیں۔ اس مناسبت سے امریکی نائب صدر جو بائیڈن اِس وقت بالٹک خطے میں ہیں اور وہ آج لیتھوينیا اور لٹویا کے لیڈران سے وِلنیئس میں ملاقات کریں گے۔ کل منگل کے روز امریکی نائب صدر نے پولستانی دارالحکومت وارسا میں کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ امریکا اپنی کمٹ منٹ پوری کرتا ہے۔ بائیڈن کے مطابق امریکا اور پولینڈ دنیا بھر میں اہم معاملات میں شانہ بشانہ ہیں۔

Krim Krise Marinestützpunkt 19.03.2014 Sewastopol
یوکرائنی نیول ہیڈکوارٹرز سے سامان اٹھا کر باہر آتے ہوئے یوکرائنی بحریہ کے اہلکارتصویر: Reuters

دریں اثنا روسی افواج اور غیر مسلح افراد نے کریمیا کی بندرگاہ سیواسٹوپول میں واقع یوکرائنی نیوی کے ہیڈکوارٹرز پر دھاوا بول دیا۔ کسی بڑے مسلح تنازعے کے بغیر ہی دھاوا بولنے والے روسی دستوں نے ہیڈکوارٹرز کی عمارت پر روسی پرچم لہرا دیا۔ یوکرائنی بحریہ کے حکام کے ساتھ روس کی بلیک سی فلیٹ کے کمانڈر ایڈمرل الیگرزینڈ وٹکو بھی مذاکراتی عمل میں شریک رہے۔ کریمیا کے غیر مسلح شدت پسندوں کے سربراہ وکٹر میلنیکوف (Viktor Melnikov) کے مطابق بات چیت میں یوکرائنی فوج کے ہتھیار پھینک دینے پر فوکس کیا گیا تھا۔ یوکرائنی نیوی کے سربراہ ایڈمرل سیرہی ہائیڈُک (Serhiy Haiduk) کو روسی خفیہ ادارے کے اہلکار ہیڈکوارٹرز سے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

تازہ ترین صورت حال پر غور و فکر کے لیے یوکرائن کی سکیورٹی اور ڈیفنس کونسل کا ايک خصوصی اجلاس طلب کر لیا گيا ہے۔ اس اجلاس میں حکومتی اراکین کے ساتھ اعلیٰ فوجی و دفاعی حکام بھی شریک ہوں گے۔ اُدھر برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کے گروپ جی ایٹ سے روس کو خارج کرنے کا معاملہ اگلے ہفتے کے دوران ہونے والے اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا۔ کیمرون کے مطابق اجلاس میں روس کو مستقل بنیاد پر خارج کرنے پر غور کیا جائے گا۔

ملتے جلتے موضوعات سیکشن پر جائیں

ملتے جلتے موضوعات

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan Premierminister Imran Khan

فوج کی سیاست سے لا تعلقی، کیا آسان ہے؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں