کرکٹ کی خاطر امریکی شہریت سے انکار کیا، ناصر جمشید | کھیل | DW | 26.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کرکٹ کی خاطر امریکی شہریت سے انکار کیا، ناصر جمشید

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سٹار اوپنر ناصر جمشید نے انکشاف کیا ہے کہ کرکٹ کے شوق کی خاطر انہوں نے امریکی شہریت لینے سے انکار کر دیا تھا۔ ناصر کے مطابق ایشیا کپ کو آخری موقع سمجھ کر میدان میں اترنے کے نتیجے میں وہ سرخرو ہوئے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ناصر جمشید نے ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف ٹیم کو ڈبل سنچری اور بنگلہ دیش کے خلاف سنچری اسٹینڈ فراہم کیا اور پاکستان کو بارہ برس بعد پہلا بڑا ٹائٹل جتوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

ریڈیو ڈوئچے ویلے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ناصر جمشید نے بتایا: ’’ایشیا کپ جیتنے کی خوشی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ میں جیت کے بعد ڈھاکہ میں سجدہ ریز ہو گیا تھا اوراختتامی تقریب میں پاکستان کی ایشین چمپیئن ٹیم کا حصہ ہونے پر فخر محسوس کررہا تھا۔‘‘

ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف یادگار سنچری کو ناصرجمشید ایک خواب کی تعبیر قرار دیتے ہیں۔ ناصر نے بتایا: ’’2008 ء میں بھارت کے خلاف کھیلتے ہوئے نصف سنچری کے بعد زخمی ہو گیا تھا، اس لیے میچ کی رات میں نے روایتی حریف کے خلاف اننگز وہیں سے شروع کرنے کا تہیہ کیا جہاں کراچی میں زخمی ہو کردستبردار ہوا تھا اور اسی کے نتیجے میں بھارت کے خلاف کیریر کی پہلی سنچری اسکور کی۔‘‘

پاکستان کی جانب سے سولہ ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلنے کے بعد بھاری تن و توش کے مالک ناصر جمشید نے ون ڈے کرکٹ میں تو اپنی افادیت ثابت کر دی ہے تاہم وہ خود اپنا لوہا اصلی کرکٹ یعنی ٹیسٹ کرکٹ میں منوانے کے متمنی ہیں۔

Nasir Jamshed Cricket Spieler Pakistan

ناصر جمشید کا کہنا ہے کہ وہ اب ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اپنا لوہا منوانے کے متمنی ہیں

ناصر کے مطابق ٹیسٹ کیپ حاصل کرنا ان کی دلی تمنا ہے اور ویسے بھی عصر حاضر کی ٹیسٹ کرکٹ میں اسٹروک پلیئرز کو ہی زیادہ کامیابی مل رہی ہے، اس لیے وہ پر امید ہیں کہ جلد ہی یہ خواہش بھی پوری ہو جائے گی: ’’جانتا ہوں کہ اس کے لیے مجھے اپنے فٹنس اور فیلڈنگ پر اور بھی زیادہ محنت کرنا ہے۔‘‘

ناصر جمشید نے اپنے کیریر کی ابتدا 2008 ء میں زمبابوے اور بھارت کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں نصف سنچریاں بنا کر کی تھی مگر پونے تین برس بعد ٹیم میں واپسی کے لیے انہیں کئی پاپڑ بیلنا پڑے۔ اس بابت ناصر جمشید نے بتایا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل کارکردگی دکھانے کے باوجود نظر انداز کیے جانے پر انہیں کئی بار مایوسی ہوئی مگر انہوں نے ہمت کا دامن نہیں چھوڑا اور بلے کے ذریعہ ہی آخر کار سلیکٹرز کو قائل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ماجد صادق، محسن مدثر اور سعید انور عامر سہیل کے بعد پاکستان کو کوئی اوپننگ پیئر نہ مل سکا تھا۔ تاہم اب ناصر جمشید اور محمد حفیظ کی جوڑی بننے کے بعد پاکستانی اوپننگ کا مسئلہ حل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس حوالے سے ناصر جمشید کہتے ہیں: ’’اوپننگ ایک مشکل شعبہ ہے مگر محمد حفیظ ایک آزمودہ کار کھلاڑی ہیں اوران کے ساتھ کھیل کر مجھے بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھارت کے خلاف ڈبل سینچری اسٹینڈ کا کریڈٹ بھی حفیظ بھائی کو ہی جاتا ہے۔‘‘

Cricket Sport Bälle

پاکستانی کرکٹ میں ناصر جمشید اور محمد حفیظ کی اوپننگ جوڑی پائیدار بننے کی توقع کی جا رہی ہے

ایشیا کپ کے بعد بائیس سالہ ناصر جمشید کے مداحوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے مگرخود ناصر جمشید میتھیو ہیڈن اور سعید انور کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہیڈن کے کھیلنے کا جارحانہ انداز انہیں پسند ہے جبکہ یو ٹیوب پر سعید انور کی بیٹنگ مسلسل دیکھنے سے بھی انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔

ناصر جمشید کے چچا زاد ذوالقرنین بھی 1980ء کے عشرے میں پاکستان کی ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں نمائندگی کر چکے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے ناصر کے والدین امریکی شہری ہیں البتہ خود ناصر کرکٹ کی خاطر امریکی شہریت ٹھکرا چکے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستانی کرکٹر کا کہنا تھا: ’’ایک موقع پر میں کرکٹ چھوڑ کر امریکہ چلا گیا تھا مگر والدین نے کرکٹ جاری رکھنے کا حوصلہ دیا اور انڈر نائنٹین عالمی کپ میں نام آنے پر میں واپس وطن آگیا اور اس طرح شوق کی خاطر امریکی پاسپورٹ لینے سے بھی انکار کر دیا۔‘‘

رپورٹ: طارق سعید، راولپنڈی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM