کرپشن کے خلاف لکھنے والے صحاقی کو زندہ جلا دیا گیا | حالات حاضرہ | DW | 01.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کرپشن کے خلاف لکھنے والے صحاقی کو زندہ جلا دیا گیا

بھارتی ریاست اتر پردیش میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک صحافی کو کرپشن کے خلاف بےباکی سے لکھنے کی وجہ سے زندہ جلا دیا گیا۔ اس سلسلے میں حکام نے بعض مقامی لیڈروں کو گرفتار کیا ہے۔

بھارتی ریاست اتر پردیش میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چند روز قبل ضلع بلرام پور میں ایک صحافی کو ان کے گھر میں بعض مقامی لوگوں نے زندہ جلا دیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موت سے قبل صحافی نے بتایا تھا کہ انہیں کرپشن کے خلاف لکھنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس واقعے کی تفتیش کے بعد گاؤں کے سرپنچ کے بیٹے سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 

صحافی راکیش سنگھ نربھک لکھنؤ سے شائع ہونے والے ایک اخبار 'راشٹریہ سوروپ' کے لیے لکھا کرتے تھے۔ گزشتہ جمعے کو 35 سالہ راکیش اور ان کے ایک دوست کو مکان کے اندر جلنے سے سنگین طور زخمی حالت میں پایا گيا۔ راکیش کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تاہم وہ چند گھنٹوں بعد ہی چل بسے جبکہ ان کے دوست موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت: صحافی ارنب گوسوامی 14 دنوں کے لیے عدالتی تحویل میں

انتقال سے قبل راکیش سنگھ نےہسپتال کے حکام کو بتایا تھا کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کرپشن کے خلاف بےباکی سے لکھنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس سے متعلق ان کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں وہ تکلیف سے تڑپ رہے ہیں اور درد و کراہ کی آواز کے درمیان انہیں،’’سچ رپورٹ کرنے کی  یہی قیمت ہے‘‘ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

بلرام پور کے پولیس سپریٹینڈنٹ دیو رنجن ورما کا کہنا ہے اس دوہرے قتل کیس میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا،’’صحافی راکیش سنگھ اور ان کے دوست پنٹو ساہو کے قتل کے سلسلے میں للت مشرا، کیشو آنند مشرا اور اکرم علی کو بہادر پور کے ایک جنگل سے گرفتار کیا گيا ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 04:44

’بھارت کے زیر انتظام کشمیر ميں صحافت مشکل ترين کام ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ کیشو آنند کی اہلیہ گاؤں کی سربراہ تھیں اور مذکورہ صحافی ان کے مبینہ کرپشن کے بارے میں مستقل لکھتے رہے تھے۔ تینوں ملزمین نے اپنے جرم کا بھی اعتراف کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرین پر آگ لگانے سے پہلے سینیٹائز چھڑکا گیا اور پھر انہیں آگ لگائی گئی۔

صحافت کے لیے مشکل ترین حالات

 بھارت میں حالیہ کچھ برس صحافیوں کے لیے بہت ہی مشکل رہے ہیں اور کورونا کے دور میں تو ان کے مسائل میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ان پر سیاسی دباؤ تو ایک عام بات ہے تاہم کئی بار انہیں مقامی سطح پر بھی زد و کوب کرنے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اب تک پچاس سے زائد صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، یوپی میں سب سے زیادہ یعنی 11 صحافیوں کو جیل بھیجا گيا۔    

مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران صحافیوں کے لیے بے خوفی اور ایمانداری سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے۔ یو پی کے دارالحکومت لکھنؤ میں کام کرنے والے سینیئر صحافی آلوک ترپاٹھی کہتے ہیں کہ صحافی برادری کے لیے یہ کافی مشکل وقت ہے۔

مزید پڑھیے: چین کے لیے جاسوسی‘، بھارتی صحافی گرفتار

ڈی ڈبلیو اردو سے خاص بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی مشکل ہو تو پولیس بھی سننے کو تیار نہیں ہوتی،''پولیس کا رویہ یہ ہے کہ اگر حکومت کے ایجنڈے پر کام کریں تو ٹھیک ہے ورنہ اسے بدعنوانی اور ترقیاتی کاموں سے کچھ بھی لینا دینا نہیں۔ اگر کوئی شکایت  کی جائے تو کوئی سننے کو تیار نہیں ہے اور حکومت کا ایجنڈہ تو خالی ہندوتوا ہے۔ کسی ایسے ایشو پر کام کرنا جو حکومت کو سوٹ نہ کرتا ہو تو پھر صحافی کی خیر نہیں۔‘‘  

آلوک ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ اس وقت ریاست میں ہر جانب رشوت خوری کا چلن عام ہے اور تمام سرکاری محکموں میں کرپشن کھلی بات ہے۔ لیکن ان موضوعات پر صحافیوں کو لکھنے یا رپورٹ کرنے کے لیے  کوئی مدد فراہم نہیں کی جاتی اور ماحول ایسا ہے کہ بہت کم صحافی ہی ہمت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حالت یہ ہے کہ بہت سی چیزوں کی کوریج کی اجازت ہی نہیں ہے اور حکومت اپنی پریس کانفرنسز میں بھی اپنے چنندہ صحافیوں کو ہی بلاتی ہے اور حکام کی جانب سے باقاعدہ بریفنگ دی جاتی ہے کہ کیا رپورٹ کرنا ہے اور کیا نہیں،''اس بات پر بہت دباؤ ہے کہ اس پر لکھیں اور اس پر نہ لکھیں۔ موجودہ صورت حال میں صحافیوں کے حالات بہت مشکل ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیے: صحافیوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی میڈیا اداروں کا مودی کے نام خط

حال ہی میں یورپ کے دو بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک مشترکہ مکتوب بھیج کر حکومت سے فوری طور پر صحافیوں کے لیے ایسے اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی، جس میں وہ بلا خوف و ہراس اپنا کام ایمانداری سے انجام دے سکیں۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں درجنوں صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، خاص طور پر انتہائی سخت اور سیاہ قانون کے تحت ان کے خلاف بغاوت جیسے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اس خط میں وزیراعظم مودی سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ریاستوں کو اس طرح کے بے جا مقدمات واپس لینے کی ہدایت کریں۔

اس سے قبل پیرس سے کام کرنے والے ادارے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اپنی ایک رپورٹ کہا تھا کہ بھارت میں صحافتی آزادی کی حالت مسلسل بگڑتی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں صحافت کی صورت حال پر   ادارے کی سن 2020 میں رپورٹ میں بھارت کو 142ویں مقام پر رکھا گیا ہے۔ یعنی صحافتی آزادی کے لحاظ سے بھارت کی حالت اس کے پڑوسی ممالک نیپال، بھوٹان اور سری لنکا سے بھی بدتر ہے۔

ویڈیو دیکھیے 08:00

کشمیر میں پچھلے ایک سال کے دوران کیا کچھ بدل گیا؟

DW.COM