کرسمس کے موقع پر معافی، جرمنی میں آٹھ سو سے زائد قیدی رہا | معاشرہ | DW | 23.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کرسمس کے موقع پر معافی، جرمنی میں آٹھ سو سے زائد قیدی رہا

جرمنی میں کرسمس کے مسیحی تہوار کے موقع پر سزا یافتہ افراد کے لیے معافی کی سالانہ روایت کے مطابق ملک کی مختلف جیلوں سے آٹھ سو سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔ یہ رہائی متعلقہ صوبوں کے صوابدیدی فیصلوں کے تحت عمل میں آئی۔

default

جرمن صوبے ہیسے کی ایک جیل میں سجایا گیا کرسمس ٹری

وفاقی جرمن دارالحکومت برلن سے ہفتہ تئیس دسمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق مسیحی دنیا میں کرسمس یا ولادت مسیح کا تہوار سب سے بڑا مذہبی تہوار ہوتا ہے اور اس موقع پر بہت سے مغربی ممالک میں قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جیلوں سے قبل از وقت رہا کر دینے کی روایت پائی جاتی ہے تاکہ وہ یہ تہوار اپنے اہل خانہ کے ساتھ منا سکیں۔

Gefangener im Gefängnis Symbolbild Haft

جنوبی جرمن صوبے باویریا میں کرسمس سے قبل قیدیوں کی رہائی کی روایت پر عمل نہیں کیا جاتا

جرمنی میں پانچ لاکھ شمعیں روشن کرنے کا ریکارڈ

بھارت میں کرسمس اور سال نو کی تقریبات کی مخالفت

دنیا بھر میں 25 دسمبر کو منائے جانے والے کرسمس کے تہوار سے پہلے جرمنی میں دسمبر کے مہینے کے پہلے نصف حصے میں سزا یافتہ افراد کو قبل از وقت رہا کر دینے کی جو روایت پائی جاتی ہے، اس سے عام طور پر ایسے قیدیوں کو فائدہ پہنچتا ہے جن کی سزائے قید عنقریب پوری ہونے والی ہو۔

لیکن اس بارے میں قومی سطح پر فیصلہ وفاقی حکومت کی طرف سے نہیں بلکہ تمام سولہ صوبائی حکومتوں کی طرف سے انفرادی طور پر کیا جاتا ہے کیونکہ ہر وفاقی صوبے میں اس حوالے سے مختلف قوانین نافذ ہیں۔ اسی لیے ہر صوبہ اپنے ایسے فیصلے انفرادی طور پر اور صوبائی حکومت کی صوابدید کے مطابق ہی کرتا ہے۔

Deutschland - Gefängnis in Zeithain

جرمن شہر سائٹ ہائن میں سزا یافتہ مجرموں کے لیے قائم ایک جیل کا بیرونی منظر

سب سے زیادہ آبادی والے جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی وزارت انصاف کی طرف سے ڈسلڈورف میں بتایا گا کہ اس صوبے میں 631 ایسے قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، جن کی سزائیں اگلے برس جنوری کے آخر میں پوری ہونے والی تھیں۔ ایسے افراد کی رہائی کے وقت ان کی طرف سے دوران قید اچھے انفرادی رویوں کو مدنظر رکھا گیا۔

جہاں خوشیاں تھیں، وہاں غم بکھرے پڑے ہیں

کوئٹہ: گرجا گھر پر حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے قبول کر لی

جرمنی: کرسمس مارکیٹ کے قریب دھماکا خیز مواد برآمد

اسی طرح وفاقی دارالحکومت اور شہری ریاست برلن میں یکم دسمبر کو 156 قیدیوں کو قبل از وقت رہا کر دیا گیا۔ جرمنی کے جنوب مغربی صوبے باڈن ورٹمبرگ میں حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ باقی ماندہ سزا معاف کر دیے جانے کے بعد اس صوبے میں بھی ’سینکڑوں افراد‘ کو رہا کر دیا گیا۔ اشٹٹ گارٹ میں صوبائی حکومت نے تاہم رہا کیے گئے قیدیوں کی حقیقی تعداد نہیں بتائی۔

اس کے برعکس جنوبی جرمن صوبہ باویریا ملک میں کرسمس کے موقع پر قیدیوں کی رہائی کی اس سالانہ روایت میں حصہ نہیں لیتا۔ باویریا میں عشروں سے مسیحی قدامت پسندوں کی جماعت کرسچین سوشل یونین اقتدار میں چلی آ رہی ہے۔

پاکستان کرسمس کے موقع پر بھارتی مچھیروں کو رہا کرے گا

میونخ میں صوبائی حکومت کے مطابق ایسے قیدیوں کو قبل از وقت رہا کردینا، جن کی سزائیں کرسمس کے قریب قریب پوری ہو رہی ہوں، نہ صرف ’ناقابل وضاحت‘ ہے بلکہ اسے ممکنہ طور پر ’کچھ قیدیوں کے لیے ترجیحی اور امتیازی بنیادوں پر غیر آئینی رعایت‘ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:02
Now live
01:02 منٹ

بون کی کرسمس مارکیٹ

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات