کربلا میں فٹ بال میچ میں خاتون کا وائلن بجانا، ایک تنازعہ | معاشرہ | DW | 07.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کربلا میں فٹ بال میچ میں خاتون کا وائلن بجانا، ایک تنازعہ

شیعہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس شہر کربلا ایک فٹ بال میچ میں عراق نے لبنان کی ٹیم کو صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے دی، مگر میچ کے آغاز پر موسیقی اور رقص نے ایک تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔

کئی برسوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ عراق میں کسی بین الاقوامی فٹ بال مقابلے کا انعقاد ہوا۔ اس میچ کے آغاز پر موسیقی اور رقص کا مظاہرہ کیا گیا، تاہم عراقی معاشرے میں موجود تقسیم اس میچ کے بعد واضح ہے۔

خاتون ریفری، ایران میں میچ ہی سنسر کردیا گیا

پہلی مرتبہ مردوں کے فٹبال میچوں میں خاتون ریفری

ملک میں سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کے درمیان اس معاملے پر اختلاف پر کربلا کے رہائشی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ اختلاف اصل میں معاشرے میں موجود تقسیم کے آئینہ دار ہیں۔

مغربی ایشیا فٹ بال فیڈریشن چیمپیئن شپ کے مقابلوں کے سلسلے میں عراق میں اس فٹ بال میچ کا انعقاد ہوا۔ میچ کے آغاز پر لبنان سے تعلق رکھنے والے وائلن نواز خاتون نے روایتی 'اسلامی لباس‘ نہیں پہن رکھا تھا، ان کے بازو کندھوں تک ڈھکے ہوئے نہیں تھے اور انہوں نے عراق کا قومی ترانہ بجایا۔

اس موقع پر عراقی نہایت جذباتی انداز سے جشن منا رہے تھے، کیوں کہ ایک طویل عرصے کے بعد عراقی سرزمین پر کسی بین الاقوامی فٹ بال ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوا۔ فٹ بال کی عالمی نگراں تنظیم فیفا نے گزشتہ برس ہی عراق پر فٹ بال میچوں کی میزبانی پر سن 1990 سے عائد پابندی کا خاتمہ کیا تھا۔ عراق پر یہ پابندی وہاں سلامتی کی خراب صورت حال کے تناظر میں عائد تھی۔

تاہم عراق میں شیعہ مسلمانوں کے مذہبی طبقے کی جنہیں قدامت پسند سیاست دانوں کی حمایت بھی حاصل تھی، نے اس خاتون وائلن نواز کی پرفارمنس کو کربلا کے مذہبی تقدس کی پامالی قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

عراقی وزارت برائے نوجوان اور کھیل نے ابتدا میں اس تقریب کا دفاع کیا، تاہم بعد میں کہا کہ وہ فٹ بال کے نگران حکام سے رابطہ کرے گی تاکہ آئندہ کربلا کے مذہبی تقدس کے تحفظ کے لیے ایسے مناظر دوبارہ دکھائی نہ دیں۔

ع ت، ع ب (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM