کراچی کے ہوٹل میں آگ، 11 ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 05.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی کے ہوٹل میں آگ، 11 ہلاک

پاکستانی شہر کراچی کے ایک فور سٹار ہوٹل میں بڑے پیمانے پر آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ شاہراہ فیصل پر موجود اس ہوٹل میں یہ آگ آج پیر کو علی الصبح لگی۔

پولیس اور طبی حکام کے مطابق آگ کے باعث پیدا ہونے والی گھٹن اور افراتفری کے باعث 75 کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ آگ تیزی سے ہوٹل میں پھیل گئی، جس کی وجہ سے بہت سے افراد اپنے کمروں میں پھنس کر رہ گئے۔ ایک مقامی پولیس افسر توقیر نعیم نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ آگ اس ہوٹل کے کچن سے شروع ہوئی۔ تاہم آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔

نعیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے ہوٹل میں ٹھہرنے والے مہمان بستروں کی چادروں کی مدد سے کھڑکیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔ متاثرین کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح قریب ساڑھے تین بجے لگی، جب زیادہ تر مہمان اپنے کمروں میں سوئے ہوئے تھے۔

متاثرہ ہوٹل کے قریب ہی واقع جناح ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق زیادہ تر افراد دم گھٹنے کے باعث ہلاک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں بعض غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد جان بچانے کے لیے بلندی سے کودنے کے باعث بھی زخمی ہوئے۔

Pakistan Brand in Regent Plaza Hotel in Karatschi (Getty Images/AFP/R. Tabassum)

کراچی پولیس کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ ثاقب میمن کے مطابق ’’ریجنٹ پلازا‘‘  ہوٹل میں لگنے والی اس آگ کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے

پاکستانی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار ڈاکٹر بھی شامل ہیں جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی آئے ہوئے تھے۔ اس کانفرنس میں سندھ اور بلوچستان کے ڈاکٹر شریک تھے۔

زخمیوں میں شامل خالد محمود نامی ایک شخص نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، ’’آگ لگنے کے بعد ہم نے بستروں کی چادروں کو باندھ کر رسے کی شکل دی اور اس کے ذریعے چوتھی منزل سے نیچے اُترے۔‘‘

کراچی پولیس کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ ثاقب میمن کے مطابق ’’ریجنٹ پلازا‘‘  ہوٹل میں لگنے والی اس آگ کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین گھنٹوں کی کوششوں کے بعد اس آگ پر قابو پایا گیا۔