کراچی کریک ڈاؤن: ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 10.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کراچی کریک ڈاؤن: ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ

خبر رساں ادارے روئٹرز نے چند حاضر سروس اور سابقہ اعلیٰ پولیس اہکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ دراصل شہر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا نتیجہ ہے۔

20 ملین کی آبادی کا شہر کراچی، جو اسٹاک ایکسچینج اور ملکی مرکزی بینک کا حامل بھی ہے، پاکستانی کی تجارتی شہ رگ کہلاتا ہے۔ اس شہر کو گزشتہ طویل عرصے سے پرتشدد کارروائیوں، بھتہ خوری، قبضہ مافیہ اور ٹارگٹ کِلنگ جیسے معاملات کا سامنا رہا ہے، تاہم ملکی سکیورٹی اداروں کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے ان واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

دو برس قبل ملکی فوج نے مقامی پولیس، رینجرز اور خفیہ اداروں کے اشتراک سے مسلح گروپوں اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف کراچی میں آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق اس آپریشن کے بعد شہر میں قتل کی وارداتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ سن 2015ء میں شہر میں اب تک 202 افراد قتل ہوئے، جب کہ 2013ء میں یہ تعداد 25سو سات تھی۔

Altaf Hussain Mutahida Qaumi Movement Pakistan

اس آپریشن پر سب سے زیادہ اعتراضات ایم کیو ایم کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں

پاکستانی وزیرداخلہ چوہدری نثار احمد کا کہنا ہے، ’حکومتی اقدامات کا نتیجہ شہر میں جرائم کی واردتوں میں کمی صورت میں نکلا ہے۔‘

نثار احمد نے بتایا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں شہر میں جرائم کے واقعات میں 50 فیصد کمی آئی ہے اور اغوا برائے تاوان کی ایک بھی واردات سامنے نہیں آئی۔

متعدد سیاسی رہنما، انسانی حقوق کے کارکنان اور متاثرین کے اہل خانہ تاہم اس کریک ڈاؤن پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ ان افراد کے مطابق پولیس الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو حراست میں لیتی ہے اور جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیتی ہے۔

روئٹرز نے چھ سابقہ اعلیٰ پولیس اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے، ’ماورائے عدالت قتل ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ کر دیا جائے اور عدالت پر بوجھ نہ پڑے۔‘

پاکستانی فوج اور پولیس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات نئے نہیں تاہم سینیئر پولیس افسران کی جانب سے اس قسم کا اعتراف تاہم غیرعمومی بات ہے۔

کراچی کے ایک سینیئر پولیس افسر راؤ انور، جن کے خلاف ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں ملوث ہونے پر عدالت میں ایک پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے، کہنا ہے کہ کبھی کبھی مشتبہ افراد کو رینجرز اور خفیہ ادارے پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں کہ ’ان سے نمٹ لو‘۔

تاہم انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ہلاکتیں جرائم پیشہ افراد اور پولیس کے درمیان مقابلے ہی میں ہوئی ہیں۔ اس بات کے جواب میں کہ اس طرح ماورائے عدالت قتل میں بے گناہ افراد بھی مارے جا سکتے ہیں، راؤ انور کا کہنا تھا، ’ملکی صورت حال حالتِ جنگ جیسی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’کبھی کبھی کچھ معاملات مبہم ہوتے ہیں اور جب انصاف کا نظام ملزموں کو مجرم ثابت کرنے میں ناکام ہو جائے، تو ایسا ہی ہوتا ہے۔‘

ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر سب سے زیادہ احتجاج کراچی میں سیاسی قوت کی حامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سامنے آئے ہے۔ اس جماعت کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اس کے کارکنوں اور حامیوں کو غیرقانونی طور پر لاپتہ کر رہی ہے اور بعض کو ماورائے عدالت قتل بھی کیا گیا ہے۔