کبوتر کے ذریعے بھیجا گیا 110 سال پرانا پیغام مل گیا | معاشرہ | DW | 12.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کبوتر کے ذریعے بھیجا گیا 110 سال پرانا پیغام مل گیا

فرانس کے مشرقی حصے میں چہل قدمی کرنے والے ایک جوڑے کو ایک چھوٹا سا کیپسول ملا جس میں ایک ایسا پیغام تھا جسے ایک جرمن ریاست پروسیا کے ایک فوجی نے لکھا تھا اور جسے 110 برس قبل کبوتر کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔

فرانس کے مشرقی شہر اوربی میں قائم لِنگے میوزیم کے منتظم ڈومینیک جیرڈی کے مطابق یہ خط جرمن زبان میں ہے جسے انگرسہائیم میں تعینات ایک پیادہ فوجی کی طرف سے اپنے افسر کو بھیجا گیا تھا۔ اس خط میں فوجی نقل و حرکت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

بظاہر یہی لگتا ہے کہ خط 1910ء میں لکھا گیا یا پھر 1916ء میں۔ اس وقت انگرسہائیم جرمنی کا حصہ تھا۔ آج یہ علاقہ فرانس کا حصہ ہے۔

کبوتر بازوں کا سب سے بڑا عالمی تجارتی میلہ جرمن شہر ڈورٹمنڈ میں

دنیا کا مہنگا ترین کبوتر، قیمت 15 لاکھ ڈالر

ڈومینیک جیرڈی کے بقول انگرسہائیم کے علاقے میں ایک جوڑے کو چہل قدمی کے دوران ایک کھیت سے یہ کیپسول ملا جس میں موجود مواد اچھی طرح محفوظ تھا۔ یہ کیپسول ایلومینیم کا بنا ہوا ہے۔ انہوں نے اسے ایک 'انتہائی غیر معمولی‘ دریافت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی کوئی چیز پہلے نہیں دیکھی۔

BdT Deutschland Wissenschaft Brieftaube

بظاہر یہی لگتا ہے کہ خط 1910ء میں لکھا گیا یا پھر 1916ء میں اور اسے ایک کبوتر کے ذریعے بھیجا گیا جو بدقسمتی سے مطلوبہ جگہ نہ پہنچ سکا۔

یہ جوڑا اس خط کو قریبی میوزیم میں لے آیا جو اوربی میں پہلی عالمی جنگ کی خونریز لڑائیوں کے بارے میں قائم کیا گیا ہے۔ یہ جنگ 1914ء سے 1918ء تک جاری رہی تھی۔

جیرڈی کے بقول انہوں نے اس خط کے متن کو سمجھنے کے لیے اپنے ایک جرمن دوست کی مدد حاصل کی۔

یہ چھوٹا سا کیپسول اور اس میں بھیجا گیا یہ خط اب اس میوزیم میں مستقل نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔

ا ب ا / ع ا (اے ایف پی)