کابل: ’ڈسٹرکٹ ون‘ کی پولیس چیف جميلہ بياض | معاشرہ | DW | 17.01.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

کابل: ’ڈسٹرکٹ ون‘ کی پولیس چیف جميلہ بياض

پچاس سالہ کرنل جميلہ بياض افغانستان کی ايسی پہلی خاتون پوليس اہلکار ہيں، جِنہيں شہر کے ايک پورے کے پورے ضلع کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ کرنل جمیلہ بياض کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نئے چيلنج کے ليے پوری طرح تيار ہيں۔

ايک وقت تھا، جب افغانستان ميں طالبان کے دور حکومت ميں عورتوں کو کسی مرد رشتہ دار کے بغير باہر تک جانے کی اجازت نہ تھی۔ اور جب کبھی يہ عورتيں باہر جاتيں، تو اُن کے ليے اپنے سر اور چہرے کو کسی برقعے سے ڈھانپنا لازمی تھا۔ اسکولوں اور ہسپتالوں سميت کئی ديگر مقامات و سہوليات تک عورتوں کی رسائی ناممکن سی بات تھی۔ ليکن ايسا لگتا ہے کہ اب افغانستان ميں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ نہ صرف خواتين کو تعليم، صحت اور ملازمتوں جيسے شعبوں ميں بہتر مواقع دستياب ہيں، بلکہ خواتين کئی شعبوں مردہں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔

ايسی ہی ايک خاتون افغان پوليس کی پچاس سالہ کرنل جميلہ بياز ہيں، جِنہيں ابھی حال ہی ميں ترقی دے کر ايک پورے ضلع کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ وہ پانچ ملين آبادی والے شہر کابل کے ’ڈسٹرکٹ ون‘ کی سربراہ مقرر کی گئی ہيں۔ یہ ڈسٹرکٹ ون انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اِس کے دائرے میں صدارتی محل سميت، کئی وزارتيں، مرکزی بينک، کرنسی ايکسچينج مارکيٹ اور شہر کی سونے کی مارکيٹ آتی ہيں۔

Afghanistan Polizistin Islam Bibi erschossen

جنوبی افغان صوبے ہلمند کی پولیس افسر لیفٹیننٹ اسلام بی بی

دارالحکومت کی کرنسی ايکسچينج مارکيٹ ميں بڑے فاخرانہ انداز سے چلتے ہوئے کرنل جميلہ بياز کا کہنا تھا، ’’ميں اپنی ذمہ داری نبھانے کے ليے پوری طرح تيار ہوں۔ مجھے کوئی خوف نہيں۔‘‘ اُن کے بقول وہ افغانستان کی پہلی ڈسٹرکٹ چيف ہيں اور اگرچہ اُن کو اپنے امور کی انجام دہی میں کئی دشوارياں کا سامنا ہے لیکن وہ اپنا کام جاری رکھيں گی۔

رواں ہفتے پير سے اپنی ذمہ دارياں سنبھالنے کے بعد سے بياز اپنے زير کنٹرول علاقوں کا دورہ کرتی رہی ہيں۔ اُن کا کہنا ہے، ’جب ميں يونيفارم پہن کر اپنا کام کرتی ہوں، تو يہ دوسروں کے ليے ايک سبق کی مانند ہوتا ہے۔ ميں چاہتی ہوں کہ مجھے ديکھ کر اور بھی عورتيں يہ يونيفارم پہنيں اور پوليس افسر بنيں۔‘‘

افغانستان ميں خواتين پوليس اہلکار جرائم سے متعلق تحقيقات اور گھروں کی تلاشی کے دوران خواتين کے سامان کی تلاشی لينے کا کام کرتی ہيں۔ اوکسفیم نامی تنظيم کی ايک رپورٹ کے مطابق افغانستان ميں بارہا يہ کوشش کی گئيں کہ پوليس ميں خواتين اہلکاروں کی تعداد ميں اضافہ ہو تاہم اس مہم ميں کاميابی کی شرح کچھ زيادہ نہيں ہے۔ سن 2005 ميں افغان پوليس کے کُل 53,400 اہلکاروں ميں صرف 180 خواتين شامل تھيں۔ جولائی 2013ء ميں کُل پوليس اہلکاروں کی تعداد ایک لاکھ 57 ہزار تھی، جِس ميں صرف ایک ہزار 551 عورتيں تھيں۔ اِس ادارے کے مطابق افغان معاشرے ميں جہاں عام طور پر خواتين شکايت يا جرائم کے اندراج کے ليے مردوں سے بات کرنے سے کتراتی ہيں وہاں پولیس فورس کی خواتين اہلکار عام عورتيں کے ساتھ بہتر انداز ميں بات کر سکتی ہيں۔

کرنل جميلہ بياز اِس سے قبل محکمہ انسداد منشيات اور جرائم کی تحقيقات سے متعلق محکمے ميں ملازمت کر چکی ہيں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہيں اُن کے خاندان کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جمیلہ بیازں تين بيٹوں اور دو بيٹيوں کی والدہ ہیں۔

DW.COM