کابل میں دھماکا، کم از کم نو افراد ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 20.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کابل میں دھماکا، کم از کم نو افراد ہلاک

افغان دارالحکومت کابل میں اتوار کو ہوئے ایک کار بم حملے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں ایک قانون ساز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

افغان حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کے دن کابل میں کیے گئے ایک کار بم حملے میں قانون ساز خان محمد وردک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ افغان وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس حملے کے محرکات کیا تھے۔

مقامی میڈیا سے گفتگو میں اندرابی نے مزید کہا کہ اتوار کی صبح دارالحکومت میں ہوئی اس دہشت گردانہ کارروائی کے نتیجے نو افراد ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے مزید تفصلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ کم از کم بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان: کابل کے نائب گورنر سمیت تین افراد ہلاک

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس کارروائی میں یہ بم پہلے سے وہاں پارک ایک کار میں نصب تھا یا پھر رکن اسمبلی محمد خان کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے خود کش کار بم حملے کی کوشش کی گئی۔ ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی ہے۔

طالبان کے حملوں میں بھی اضافہ

افغانستان میں حالیہ کچھ عرصے میں تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے، جن میں زیادہ تر بم حملے شامل ہیں۔ یہ پرتشدد واقعات ایک ایسے وقت میں بڑھے ہیں، جب کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

اس کے علاوہ اتوار کے دن ہی صوبہ لوگر، قندہار، ہلمند اور ننگر ہار کے علاوہ بدخشاں میں بھی بم دھماکوں کی اطلاعات ہیں، جن میں مبینہ طور پر متعدد افراد اور سکیورٹی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے:افغانستان: امریکی بیس پر راکٹ حملے اور غزنی میں 15 بچے ہلاک

جمعے کے دن بھی غزنی صوبے میں ایک بم دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں پندرہ شہری مارے گئے۔ اس کارروائی میں گیارہ بچے بھی ہلاک ہوئے۔

افغان وزرات داخلہ کی طرف سے جاری ہوئے ایک بیان کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران طالبان نے ملک بھر میں پینتیس خود کش حملوں سمیت پانچ سو سات بم حملے کیے، جن کی وجہ سے چار سو ستاسی افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

ع ب / ا ا / خبر رساں ادارے

DW.COM