کابل میں بم دھماکا: چالیس ہلاک، بیسیوں افراد زخمی | حالات حاضرہ | DW | 08.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

کابل میں بم دھماکا: چالیس ہلاک، بیسیوں افراد زخمی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہوئے ایک بڑے بم دھماکے میں کم از کم پچالیس افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں سے زیادہ تر نو عمر طلبا تھے۔

افغان حکومت کے ترجمان کے مطابق دارالحکومت کابل میں ہونے والا بم دھماکا سید الشہداء اسکول کے نزدیک ہوا۔ وزارت داخلہ کے مطابق دھماکے کی جگہ کے قریب ہی شیعہ مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ دشت برچی ہے۔ افغان شیعہ کمیونٹی کو ماضی میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کا سامنا رہا ہے۔

کابل می‍ں بڑھتی لا قانونیت، چھینا جھپٹی عروج پر

ہلاکتوں میں اضافے کا امکان

کابل میں وزارتِ صحت کے حکام نے ہلاکتوں کی تعداد پہلے پچیس اور زخمیوں کی تعداد باون بتائی۔ کچھ ہی دیر بعد ہلاکتوں کی تعداد چالیس ہو جانے کی تصدیق کر دی گئی۔ مقامی ہسپتال کے ذرائع نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ آخری خبریں ملنے تک بم دھماکے کی جگہ پر ایمبولینیس موجود تھیں اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جا رہا تھا۔

Afghanistan | Sicherheitskräfte in Kabul

بم دھماکے کے علاقے کو سکیورٹی اہکاروں نے گھیر لیا ہے اور تفتیشی عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے

اس بم دھماکے کے بعد مشتعل مظاہرین کی طرف سے ریسکیو ورکرز کے زد وکوب کیے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ حکام نے مظاہرین سے پرامن رہنے اور ریسکیو سرگرمیوں میں تعاون کی اپیل کی ہے۔

امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ

مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی جائے وقوعہ پر جمع ہے اور ان کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ کابل میں وزارتِ صحت کے ترجمان غلام دستگیر نزاری نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دھماکے کی جگہ والے علاقے کو خالی کر دیں تا کہ امدادی کارروائیاں جاری رکھی جا سکیں۔

ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ طالبان نے ان امکانات کی تردید کی ہے کہ یہ کارروائی انہوں نے کی۔ ساتھ ہی طالبان نے اس ہلاکت خیز حملے کی مذمت بھی کی ہے۔ 

Afghanistan Kabul Anschlag

بم دھماکے کے بعد زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کا سلسلہ بھی شروع ہے

غیر ملکی فوجی انخلا

کابل میں ہفتہ آٹھ مئی کو کیا جانے والا یہ حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب اس جنگ زدہ ملک میں امریکا کے صرف ڈھائی ہزار سے تین ہزار تک فوجی وہاں رہ گئے ہیں۔ امریکی فوج کا انخلا جاری ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے فوجی گیارہ ستمبر سے پہلے پہلے افغانستان سے واپس اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو جائیں گے۔

کابل پھر لرز اٹھا، تعلیمی مرکز پر خودکش حملے میں 48 ہلاک

ایک اعلیٰ امریکی  فوجی اہلکار کا کہنا ہے کہ کابل حکومت کو ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ افغانستان کے وسیع تر علاقے پر طالبان عسکریت پسندوں کو کنٹرول حاصل ہے۔

ع ح / م م (ڈی پی اے، اے پی)