کئی ملین سال پرانے پینگوئین کا ڈھانچا دریافت | سائنس اور ماحول | DW | 14.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

کئی ملین سال پرانے پینگوئین کا ڈھانچا دریافت

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے ایک جنوبی جزیرے میں  انسانی جسم کے حجم جتنی پینگوئن کا ڈھانچا ملا ہے۔ یہ ڈھانچا 1.6 میٹر لمبا ہے اور اس کا وزن 80 کلو گرام ہے۔

ریسرچرسز کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچا جدید دور کے یورپ میں پائی جانی والی پینگوئن سے چار گنا وزنی اور چالیس سینٹی میٹر لمبا ہے۔ اس پینگوئن کی باقیات 2018ء میں ایک ماہر امراضیات نے دریافت کی تھیں۔ جس کے بعد کینٹر بری عجائب گھر اور فرینکفرٹ کے سینکینبرگ نیچرل ہسٹری میوزیم نے اس پرندے کی باقیات کا جائزہ لیا اور یہ اندازہ لگایا کہ اس ڈھانچے کا تعلق پینگوئین کی کراسویلیا وائیپارینسز نسل سے ہے۔

یہ پینگوئن 56 سے 66 ملین سال پہلے نیوزی لینڈ کے ساحل پر پائی جاتے تھے۔ پینگوئن کی اس قسم سے ملتی جلتی ایک نسل  کی باقیات انٹارٹیکا کی ایک وادی میں سن 2000ء میں ملی تھیں۔ کینٹربری عجائب گھر کی ایک محقق ونیسا ڈی پیٹری کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے اس ساحلی علاقے سے پینگوئین کا یہ دوسراڈھانچا ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے،'' اس ڈھانچے کا ملنا ہمارے اس نظریے کو تقویت دیتا ہے کہ پینگوئینز  ارتقائی عمل کے آغاز میں بہت بڑی جسامت کی حامل تھے۔‘‘ سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑی جسامت کی پینگوئین کی ہلاکتوں کی ایک وجہ وہیل مچھلیوں کے ہاتھوں ان کا شکار کرنا ہو گا۔

گزشتہ ہفتے کینٹر بری عجائب گھر نے ایک ایسے طوطے کی 19 ملین سال پرانی باقیات ملنے کا اعلان کیا تھا جو ایک میٹر لبما تھا۔

DW.COM