ڈی ڈبلیو انگلش ٹی وی کے ایشیا اور افریقہ کے لیے نئے پروگرام | معاشرہ | DW | 29.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ڈی ڈبلیو انگلش ٹی وی کے ایشیا اور افریقہ کے لیے نئے پروگرام

ڈی ڈبلیو انگلش ٹی وی نے علاقائی خبروں پر مبنی ایک نئے ڈیلی نیوز پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ نئے چہروں اور نئے فارمیٹس کے ساتھ یہ پروگرام خاص طور پر ایشیا اور افریقہ کے ناظرین کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے پہلا ٹی وی پروگرام اٹھائیس جنوری کو نشر کیا گیا۔ یہ ہر ہفتے پیر سے جمعے تک پانچ روز نشر کیا جایا کرے گا، اس حوالے سے مزید معلومات ’ڈی ڈبلیو نیوز ایشیا‘ اور ’ڈی ڈبلیو نیوز افریقہ‘ کے پیجز پر حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی انتظامیہ نے ان دونوں براعظموں میں اپنے نمائندوں کا نیٹ ورک بھی مزید وسیع کر دیا ہے۔

جرمنی کا بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ڈی ڈبلیو (ڈوئچے ویلے)  علاقائی خبروں، رپورٹوں اور تبصروں کے ذریعے ناظرین کی مزید توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ غیرجانبدارانہ صحافت کے میدان میں اپنے کردار میں اضافہ بھی چاہتا ہے۔ اس موقع پر ڈی ڈبلیو نیوز کے سربراہ رچرڈ واکر کا کہنا تھا، ’’میں ڈی ڈبلیو ایشیا نیوز اور ڈی ڈبلیو افریقہ نیوز کے حوالے سے بہت خوش ہوں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’یہ پروگرام عام ٹی وی شوز سے بھی کچھ زیادہ ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک گاڑی ہیں، اور یہ ہمیں ان دونوں اہم براعظموں کے ناظرین اور ڈیجیٹل صارفین کے مزید قریب تک لے جائیں گے۔‘‘

رچرڈ واکر نے مزید بتایا کہ اس نئے پروگرام میں معلومات کہانیوں کی طرح نئے انداز میں پیش کی جائیں گی لیکن ڈی ڈبلیو کے قابل اعتماد صحافتی معیارات کو برقرار رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ ڈی ڈبلیو’نیو افریقہ‘ اور ’بزنس ایشیا‘ کے نام سے شروع ہونے والے پروگراموں میں انفارمیشن اور نیوز پر بھی توجہ دے گا۔ ان میں نئے ماحولیاتی اور ثقافتی فارمیٹس متعارف کرائے گئے ہیں۔ ماحولیاتی پروگرام ’ایکو انڈیا‘ مقامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر پیش کیا جائے گا جبکہ ڈی ڈبلیو کا ’ایکو افریقہ‘ نامی پروگرام پہلے ہی سے جاری ہے۔ یہ پروگرام بھی مقامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر تیار کیا جاتا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی پروگرام ڈائریکٹر گیرڈا موئیر کا کہنا تھا، ’’ہم افریقہ اور ایشیا کے شہروں میں نوجوانوں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ ہم ایسی جدید بصری کہانیاں پیش کریں گے، جو مسائل کے حل بھی فراہم کریں گی۔‘‘

ا ا / م م