ڈیپ فیک پورنو گرافی: جنوبی کوریائی باشندے پریشان | معاشرہ | DW | 23.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ڈیپ فیک پورنو گرافی: جنوبی کوریائی باشندے پریشان

جنوبی کوریا ایک ایسا ملک ہے، جہاں کا معاشرہ جدید ٹیکنالوجی سے خوب آراستہ ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اسپیڈ اور دوسرے جدید ڈیجیٹل آلات بشمول آن لائن گیمز اور ایپس کا استعمال جنوبی کوریائی باشندے بہتر انداز میں جانتے ہیں۔

ترقی یافتہ اقوام میں شمار کیے جانے والے جنوبی کوریا کا معاشرہ جس تیز رفتاری سے ٹیکنیکل دریافتوں سے آشنا ہوتا جا رہا ہے، ویسے ہی اس کی عوام کو احساس ہوتا جا رہا ہے کہ ہر جدید شے کے استعمال کی قیمت معاشرتی و اخلاقی زوال کی صورت میں اجتماعی طور پر چکانا پڑتی ہے۔

یہ امر اہم کے جنوبی کوریائی باشندوں کو قریب قریب سبھی موبائل یا کمپیوٹر ایپس کے نام حفظ ہیں اور وہ ان کے استعمال سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اب ان لوگوں کو احساس ہونے لگا ہے کہ سبھی ایپس چمکتی شے کی طرح ہیں اور یہ ان کے لیے بیش قیمت اور مفید بھی نہیں ہیں۔ یہ لوگ بتدریج ان کے تاریک پہلووں سے آگاہ ہوتے جا رہے ہیں۔ انہی میں ایک ایپ 'ڈیپ فیک‘ پورنوگرافی ہے۔’ڈیپ فیک‘ ٹیکنالوجی کے استعمال میں ڈرامائی اضافہ، رپورٹ

خصوصی درخواست بنام صدر

تین لاکھ پچھتر ہزار افراد اُس آن لائن پٹیشن یا درخواست پر دستخط کر چکے ہیں، جو ملکی صدر کی رہائش گاہ بلُو ہاؤس کو روانہ کی جائے گی۔ اس پٹیشن میں جنوبی کوریائی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت 'ڈیپ فیک‘ پورنوگرافی یا جعلی فحش فلم سازی کے خلاف انتہائی سخت اقدام کرتے ہوئے اس تک رسائی کو ممنوع قرار دے۔

3D Illustration | Frauenkopf | Digitales Gittermodell

کمپیوٹرجینریٹڈ امیجری ٹیکنالوجی کا استعمال ڈیپ فیک پورنوگرافی میں کیا جاتا ہے

ان فلموں میں ایک ایپ کے ذریعے جنوبی کوریا کی مشہور خاتون اداکاروں کی فحش فلمیں تیار کر کے مارکیٹ کی جا رہی ہیں۔ جعلی آن لائن اور سوشل میڈیا مواد کی وجہ سے جنوبی کوریا کی کئی اداکاروں نے گزشتہ مہینوں میں خودکشیاں بھی کی ہیں۔’امی، ظالموں کے گناہ بےنقاب کرنا‘: خاتون ایتھلیٹ نے خود کشی کر لی

چیٹ بوٹ

جنوبی کوریائی لوگوں کی آن لائن پٹیشن ایسے وقت میں ملکی حکومت کے سربراہ یعنی صدر کو پیش کی جا رہی ہے، جب دارالحکومت سیئول کی ایک ڈیجیٹل کمپنی نے مصنوعی دانش سے چلنے والی 'چیٹ بوٹ‘ سروس کو کلی طور پر بند کر دیا ہے۔ یہ پابندی رواں برس گیارہ جنوری کو لگائی گئی کیونکہ صارفین نے سروس فراہم کرنے والی کمپنی اسکیٹر لیب کو حقیقت میں دیوار سے لگا کر بے بس کر دیا تھا۔

اس سروس کے ذریعے انتہائی فحش اور 'غلیظ پیغامات‘ کا تبادلہ کیا جاتا تھا۔ چیٹ بوٹ ایک سوفٹ ویئر ہے، جس میں آن لائن بات چیت کی جا سکتی ہے لیکن اس میں براہِ راست کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔

Deep Fake David Beckham

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی سے پہلے سے موجود تصویر کو تبدیل کرنا ممکن ہو گیا ہے

ڈیپ فیک پورنو

اس ایپلی کیشن میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پہلے سے موجود کسی اداکار یا اداکارہ کی تصاویر کو ایک نئے مگر غلط انداز میں استعمال کر کے فحش فلم تیار کی جاتی ہے۔ اس میں مکالمے اور جنسی فعل کی ادائیگی کی آوازیں بھی شامل کرنا آسان ہے۔ اس عمل کو کمپیوٹر جینریٹڈ امیجری (CGI) کہتے ہیں۔ ایسی ویڈیوز میں بھی مصنوعی دانش یا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈیپ فیک ویڈیوز میں مردہ اداکاروں کی تصاویر کے استعمال سے انہیں ایک طرح سے زندہ کر دیا جاتا ہے۔ ماڈلنگ انڈسٹری میں فوٹو شوٹ کروانے والی خواتین ماڈلز کی تصاویر کو کسی بھی گلوکارہ کے گیتوں کے ساتھ جوڑنا اب ممکن ہے۔ ڈیپ فیک پورن ویڈیوز سن 2017 میں دستیاب ہونا شروع ہو گئی تھیں۔

DW Sendung Shift Chatbots

چیٹ بوٹ ایک سوفٹ ویئر ہے، جس میں آن لائن بات چیت کی جا سکتی ہے

قانون سازی مزید سخت ہو سکتی ہے

ڈیپ فیک پورنوگرفی کے خلاف مہم اس وقت بہت تیزی سے سوشل میڈیا پر بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ٹویٹر پر ایسے مطالبات سامنے آنے لگے ہیں کہ ایسی تصاویر سے جعلی فحش فلمیں بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ان کے نام بھی ظاہر کیے جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں تا کہ اس کام کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔جنوبی کوریا میں خودکشیاں کیوں بڑھ  رہی ہیں؟

جنوبی کوریا میں گزشتہ برس جون میں ایک قانون نافذ کیا گیا تھا اور اس کے تحت ڈیپ فیک ویڈیوز کو خلافِ قانون قرار دے دیا گیا تھا۔ اس کا ارتکاب کرنے والے کو پانچ برس کی قید اور پچاس ملین وون تک ( سینتالیس ہزار دو سو امریکی ڈالر) کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔ اس قانون کے نفاذ کا جنوبی کوریا میں خاطر خواہ اثر ظاہر نہیں ہوا تھا اور اسی باعث ایک نئی درخواست یا پٹیشن حکومت کو پیش کی جا رہی ہے۔

ژولین رویال (ع ح، ا ا)