ڈھاکا سے دبئی جانے والے جہاز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش ناکام | حالات حاضرہ | DW | 24.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ڈھاکا سے دبئی جانے والے جہاز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش ناکام

بنگلہ دیشی سکیورٹی اہلکاروں نے ایک مسافر طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کو ہلاک کر دیا ہے۔

اتوار چوبیس فروری کے روز ڈھاکا سے دبئی جانے والی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ بنگلہ دیش کی بیمان ایئرلائن کی پرواز BG147 میں عملے کے ارکان اور ایک سو اڑتالیس مسافر سوار تھے۔

حکام کے مطابق مبینہ ہائی جیکر نے کاک پٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے بعد اُس مسافر طیارے کو چٹاگانگ کے ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ طیارے میں سوار تمام مسافروں کو بحفاظت اتار لیا گیا۔

بنگلہ دیشی فوج کے کمانڈوز نے آپریشن کرتے ہوئے مبینہ ہائی جیکر کو ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق مبینہ ہائی جیکر بنگلہ دیشی شہری تھا اور اس کی عمر پچیس برس تھی۔

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق مبینہ ہائی جیکر سے مذاکرات کیے جانے کا موقع نہیں ملا۔ ملکی فوج کے ترجمان میجر جنرل مطیع الرحمان نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آور کے قبضے سے صرف ایک پستول ملا ہے۔

چٹاگانگ ایئرپورٹ کو فوج، ایلیٹ پولیس اور نیوی کے اہلکاروں نے ہنگامی لینڈنگ کے فوری بعد مکمل طور پر سیل کر دیا تھا۔ لینڈنگ کے بعد بنگلہ دیشی ایئر وائس مارشل مفید نے حملہ آور کو گفتگو میں مصروف رکھا جب کہ اس دوران اسپیشل فورسز کے کمانڈوز نے ڈرامائی ایکشن کی تیاری کی۔

ایئر وائس مارشل مفید کے مطابق، ’’اس نے وزیر اعظم سے گفتگو کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس پستول ہے لیکن ہمیں یقین نہیں تھا کہ پستول اصلی ہے یا نقلی۔‘‘

بنگلہ دیشی فوج کے ایک اور ترجمان عبداللہ ابن زیاد نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور کے ساتھ کی گئی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس پچیس سالہ نوجوان کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔

ڈھاکا حکومت نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ یہ تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں کہ مسلح شخص پستول سمیت جہاز میں کیسے داخل ہو پایا۔

ش ح / ع ح (اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM