ڈرون طياروں کے استعمال اور تجارت کے اصولوں پر کئی ممالک متفق | حالات حاضرہ | DW | 06.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈرون طياروں کے استعمال اور تجارت کے اصولوں پر کئی ممالک متفق

امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈرونز کا موثر استعمال کیا ہے۔ اب ڈرون ٹیکنالوجی کی ترویج میں کئی ملک شامل ہیں۔ اس مناسبت سے امریکا سمیت کئی ملکوں نے اِس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک ڈیل طے کی ہے۔

امریکا اور چوالیس ديگر ملکوں نے دو روز قبل ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال اور ایکسپورٹ کے بنیادی اصولوں پر یہ ملک متفق بتائے گئے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ نے اِس مشترکہ بیان کے اجراء کی تصدیق کی ہے۔

 اس مشترکہ بیان میں بنیادی معاملے پر اتفاق کیا گیا ہے کہ بغیر پائلٹ کے اڑنے والے اِس طیارے کے استعمال کو مسلح تنازعات والے علاقوں کے لیے مقرر اصولوں اور ضوابط کے تابع کرنے کے علاوہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری بھی کرنا ہو گی۔

 مشترکہ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بغیر کسی انسان کے فضا میں متحرک ہونے والے (UAV) طیاروں کی ایکسپورٹ کے لیے بھی ذمہ داری کا مظاہرہ اشد ضروری ہے اور ان کی برآمدات کو انٹرنیشنل آرمز کنٹرول اور انسداد اسلحہ سازی کی اقدار کے تناظر میں پابند رکھنا ہو گا۔ بیان کے مطابق ڈرونز کی ایکسپورٹ کے کسی بھی سمجھوتے میں یہ شفافیت ہونا ضروری ہے کہ اِس کا استعمال کس مقام پر اور کس مقصد کے لیے ہو گا۔

اِس مشترکہ بیان کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ کے دفتر میں کیا گیا۔ اس پریس کانفرنس میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان مارک ٹونر نے واضح کیا کہ یہ مشترکہ بیان دراصل مستقبل کی اُس جامع دستاویز کے جانب ایک قدم ہے، جس میں ڈرونز کے مناسب استعمال کا تعین کیا جائے گا۔

 اس مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والوں میں اہم امریکی اتحادی ملک جرمنی اور برطانیہ خاص طور پر شامل ہیں۔ بدھ کے روز طے پانے والے اِس ایگریمنٹ میں یورپ، افریقہ، لاطینی امریکا اور ایشیا کے کئی ممالک شریک تھے۔ چین، روس اور پاکستان نے اِس سمجھوتے کا حصہ بننے سے اجتناب کیا۔

ٹونر نے یہ بھی کہا کہ اگلے برس اِس مشترکہ ڈیل میں شامل امریکا اور اُس کے پارٹنرز ایک مرتبہ پھر ایک نئی میٹنگ میں شریک ہو کر ڈرونز کے استعمال اور تجارت کے لیے بین الاقوامی معیارات کی تفصیلات کو طے کریں گے۔ حال ہی میں ایران نے بھی اپنا ڈرون طیارہ عام کیا ہے۔ ایران کے مطابق یہ ڈرون  ایک وقت میں چار اہداف کا نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اشتہار