چین ’ہر کسی کے لیے سود مند‘ کثیرالفریقی عالمی نظام کا حامی | حالات حاضرہ | DW | 16.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چین ’ہر کسی کے لیے سود مند‘ کثیرالفریقی عالمی نظام کا حامی

عوامی جمہوریہ چین نے کہا ہے کہ بیجنگ حکومت ایک ایسے کثیرالفریقی عالمی نظام کی حامی ہے، جو ’ہر کسی کے لیے سود مند‘ ہو۔ یہ بات جرمن شہر میونخ کی سکیورٹی کانفرنس میں آج تک شرکت کرنے والے اعلیٰ ترین چینی عہدیدار نے کہی۔

جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میں جاری سالانہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں شریک چینی نمائندے یانگ جی ایچی نے آج ہفتہ سولہ فروری کو اس کانفرنس کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ بیجنگ حکومت بین الاقوامی سطح پر تعاون کے ایسے ایک نظام کی بھرپور حامی ہے، جس میں کثیرالفریقی اور کثیر الجہتی سوچ کو مدنظر رکھا گیا ہو۔

یانگ جی ایچی چین کے خارجہ امور کے ڈائریکٹر ہیں اور وہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں آج تک شرکت کرنے والے اعلیٰ ترین چینی حکومتی اہلکار ہیں۔

انہوں نے کانفرنس کے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا، ’’دنیا آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں اسے تنازعات کے حل، باہمی مکالمت، مختلف ممالک کو الگ تھلگ کر دینے کے خلاف اور کھلے پن کی سوچ اپنانے کے سلسلے میں یک فریقی اور کثیرالفریقی نظاموں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ چین کثیرالجہتی اور کثیرالفریقی عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے کیونکہ آج کی دنیا کو درپیش مسائل کا حل اسی طرح نکالا جا سکتا ہے۔

مداخلت کی مخالفت

کانفرنس کے شرکاء سے یانگ جی ایچی کے چینی زبان میں خطاب کے انگریزی ترجمے کے متن کے مطابق انہوں نے اس امر کی بھی مخالفت کی کہ  کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں کسی بھی دوسری ریاست کی طرف سے کوئی مداخلت کی جائے۔ آج کی دنیا میں چین اپنا کردار کس طرح ادا کر رہا ہے، اس بارے میں بیجنگ حکومت کے خارجہ امور کے ڈائریکٹر نے کہا، ’’ہم ہر کسی کے لیے سود مند تعاون کی صورت میں عالمی امن اور ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔‘‘

Yang Jiechi, Mike Pompeo (picture-alliance/C. Kaster)

یانگ جی ایچی گزشتہ نومبر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ

آج تک کا سب سے بڑا چینی وفد

میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اس سال بھی دنیا بھر سے سیاسی اور سفارتی شعبوں کی  سینکڑوں انتہائی اہم شخصیات حصہ لے رہی ہیں۔ اس مرتبہ اس کانفرنس میں چینی وفد بھی بیجنگ کی طرف سے اس اجتماع کے لیے آج تک جرمنی بھیجا جانے والا سب سے بڑا وفد ہے۔

کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے یانگ جی ایچی نے مزید کہا، ’’ہر ملک نے اپنے لیے ترقی کے راستے کا انتخاب خود کیا ہے، جس کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔‘‘

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس اعلیٰ چینی حکومتی عہدیدار نے یہ بات چین میں انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال پر بیرونی دنیا کی طرف سے کی جانے والی شدید تنقید کے ردعمل میں کہی۔

م م / ش ح / ڈی پی اے

DW.COM