چین کے لیے جاسوسی‘، بھارتی صحافی گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 20.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چین کے لیے جاسوسی‘، بھارتی صحافی گرفتار

راجیو شرما نے بھارتی دفاعی حکمت عملی سے متعلق حساس معلومات چین کو فروخت کی ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق شرما کے دو مشتبہ ساتھیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

فری لانس صحافی راجیو شرما بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا رہائشی ہے۔ حساس خفیہ معلومات چینی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو فراہم کرنے کے الزام میں اسے رواں ہفتے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق شرما گزشتہ کچھ برسوں سے چینی خفیہ اداروں کے لیے جاسوسی کے کام میں مصروف تھا۔

اکسٹھ سالہ شرما پر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو اسے چودہ سال تک کی سزائے قید سنائی جا سکتی ہے۔ نئی دہلی پولیس کے مطابق شرما کی رہائش گاہ سے اہم خفیہ دستاویزات بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 'ہم تمام ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں': بھارت

دارالحکومت کے ڈپٹی کمشنر پولیس سنجیو کمار یادو نے بتایا، ''تفتیش کرنے پر راجیو شرما نے انکشاف کیا کہ وہ خفیہ اور حساس معلومات خریدنے کے عمل میں ملوث ہے جبکہ وہ ان معلومات کو چینی ڈیلرز کے ساتھ رابطے میں تھا۔‘‘

یادو نے مزید بتایا کہ شرما کے لیپ ٹاپ سے بھارتی محکمہ دفاع سے متعلق حساس معلومات حاصل کر لی گئی ہیں۔ شرما پر الزام ہے کہ اس نے تین ملین بھارتی روپے کے عوض یہ خفیہ معلومات چینی خفیہ اداروں کو فروخت کیں۔ شرما کے دو ساتھی مائیکل اور جارج مبینہ طور پر چینی شہر کونمینگ میں فعال ہیں۔

بھارتی حکام نے البتہ یہ نہیں بتایا کہ شرما نے کس نوعیت کی معلومات چین کو فروخت کی ہیں۔ ادھر چینی وزارت خارجہ نے بھی اس بھارتی الزام پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:’چین کے ساتھ کشیدگی بڑی دیر چلے گی‘: پھر بھارتی بیان آف لائن

بھارتی میڈیا کے مطابق راجیو شرما کے مزید دو ساتھی چینی خاتون شین شی اور راج بوہرہ نیپال سے فعال تھے، جنہیں حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شرما نے جو معلومات مبینہ طور پر چین کو فراہم کی ہیں، ان میں بھارت اور بھوٹان کی سرحد فوجیوں کی تعیناتی، دفاعی حکمت عملی، میانمار میں بھارتی فوج کی سرگرمیوں اور دلائی لامہ سے متعلق معلومات شامل ہیں۔

ع ب/ ع ت / 

ویڈیو دیکھیے 03:33

چین اور بھارت کے مابین بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات