چین ٹینس اسٹار پینگ شوائی کے محفوظ ہونے کا ثبوت فراہم کرے، یورپی یونین | حالات حاضرہ | DW | 01.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چین ٹینس اسٹار پینگ شوائی کے محفوظ ہونے کا ثبوت فراہم کرے، یورپی یونین

چین کی ٹینس اسٹار پینگ شوائی سوشل میڈیا پر ایک پیغام پوسٹ کرنے کے بعد دو نومبر سے لا پتہ ہوگئی تھیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں ایک اعلیٰ چینی اہلکار پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔

یورپی یونین نے 30 نومبر منگل کے روز چین پر اس بات کے لیے زور دیا کہ وہ ملک کی اسٹار ٹینس کھلاڑی پینگ شوائی کی خیریت اور تحفظ سے متعلق ثبوت فراہم کرے۔ پینگ شوائی نے ایک سابق اعلیٰ چینی اہلکار پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا تھا اور پھر ان کے لا پتہ ہونے کے بعد سے ہی ان کی خیریت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یورپی یونین میں محکمہ خارجہ کی جانب سے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا، ''اس یقین دہانی کے لیے کہ وہ آزاد ہیں اور انہیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، یورپی یونین بھی، کھیلوں کی پیشہ ور شخصیات کے ساتھ، ان بڑھتے بین الاقوامی مطالبات میں شامل ہوتی ہے۔''

اس بیان میں مزید کہا گیا، ''یورپی یونین چینی حکومت سے گزارش کرتی ہے کہ وہ پینگ شوائی کی حفاظت، ان کی خیریت اور ٹھکانے سے متعلق قابل تصدیق ثبوت فراہم کرے۔'' یونین نے ان کے، ''جنسی استحصال کے الزامات کی مکمل، منصفانہ اور شفاف تحقیقات'' کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

تین بار کی اولمپیئن اور ڈبلز کی سابق عالمی نمبر ایک کھلاڑی پینگ شوائی دو نومبر کو سوشل میڈیا پر ایک پیغام پوسٹ کرنے کے بعد اچانک لا پتہ ہو گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے چین کے سابق نائب وزیر اعظم ژانگ گاؤلی پر اپنے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔  چین میں انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نے ان کی اس پوسٹ کو چند منٹوں میں ہی ہٹا دیا تھا۔

ان کی گمشدگی کی خبر آنے کے بعد جب کئی حلقوں کی جانب سے اس پر نکتہ چینی شروع ہوئی تو تقریباً دو ہفتے بعد وہ بیجنگ میں اس وقت دوبارہ منظر عام آئیں جب انہوں نے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس باخ سے ویڈیو کال پر گفتگو کی تھی۔

اس ویڈیو کال کے باوجود ویمن ٹینس ایسوسی ایشن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پینگ شوائی کی حالیہ ویڈیوز اور ان کی تصاویر ان خدشات کی مناسب انداز میں نفی نہیں کرتیں جو ان کی زندگی کے حوالے سے پیدا ہوئے ہیں۔

انہیں خدشات کا اظہار یورپی یونین نے بھی کیا ہے۔ یورپی یونین کے ایک ترجمان کا کہنا تھا، ''حال ہی میں ان کے عوامی سطح پر ظاہر ہونے سے ان کی حفاظت اور آزادی سے متعلق خدشات کم نہیں ہوئے ہیں۔''

چین میں پینگ کا کیس سینسرڈ

چین میں کاروباری شخصیات، کارکنان اور ایسے دیگر عام لوگوں کے لاپتہ ہونے کی بڑھتی ہوئی تعداد میں ٹینس سٹار پینگ کی گمشدگی ایک نیا اضافہ ہے۔ حالیہ برسوں میں حکمراں پارٹی سے وابستہ شخصیات پر تنقید کرنے، بدعنوانی یا جمہوریت کے لیے آواز اٹھانے اور مزدوروں کے حقوق کی حمایت کے لیے مہم چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران بہت سے افراد لا پتہ ہوئے ہیں۔

پینگ شوائی کی گمشدگی اور ان کی سوشل میڈیا پوسٹ سے متعلق تمام مواد پر چین میں انٹرنیٹ پر براہ راست بحث پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ چینی حکومت نے پینگ شوائی کے الزامات پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم بیجنگ نے اس معاملے پر ''سیاست کرنے'' پر بین الاقوامی برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسے ''بد نیتی سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔''

سابق نائب وزیر اعظم ژانگ گاؤلی نے بھی ابھی تک جنسی زیادتی کے اس واقعے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔ وہ تقریباً تین برس قبل طاقتور سات رکنی پولٹ بیورو کی قائمہ کمیٹی سے مستعفی ہو گئے تھے اور تبھی سے چینی حکومت کا حصہ نہیں ہیں۔

ص ز/ ج ا (روئٹرز، اے پی)

ویڈیو دیکھیے 01:28

چین میں جبری گمشدگیاں

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات