چین نے متنازعہ ہانگ کانگ سکیورٹی قانون کی منظوری دے دی | حالات حاضرہ | DW | 30.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چین نے متنازعہ ہانگ کانگ سکیورٹی قانون کی منظوری دے دی

چینی پارلیمان نے ہانگ کانگ کے لیے متنازعہ سکیورٹی قانون کی منظوری دے دی ہے، جسے تقریباً 23 برس قبل برطانیہ سے چینی عملداری میں واپس آنے والے اس خود مختار علاقہ کے لیے ایک بہت بڑی بنیادی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔

یہ نئی پیش رفت امریکا اور چین کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوئی ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نئے قانون سے ہانگ کانگ کی آزادی پر قدغن لگ جائے گی۔

چینی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق چین کے اعلی ترین قانون ساز ادارے نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے منگل کے روز اس قانون کو اتفاق رائے سے منظورکرلیا۔  اس سے1997ء میں ہانگ کانگ کے برطانیہ سے چینی اقتدار میں آنے کے بعد سے اس خود مختار علاقے میں اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کے لیے راستہ ہموار ہوگیا ہے۔

اس نئی پیش رفت کو امریکا، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی حکومتوں کے ساتھ ٹکراؤ کے راستے پر چلنے والے چین کا ایک بڑا قدم سمجھا جارہا ہے۔  ان ملکوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کی منظوری کے بعد دنیا کے بڑے مالیاتی مراکز میں شامل ہانگ کانگ کی خودمختاری محدود ہوجائے گی۔

گوکہ اس قانون کا مسودہ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم چین کا کہنا ہے کہ یہ قانون دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر شرپسندی کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔  گزشتہ برس اس قانون پر بحث شروع ہونے کے بعد سے ہی  جمہوریت نوازو ں کی طرف سے ہانگ کانگ میں کئی پرتشدد مظاہرے ہوچکے ہیں۔

کئی سوال اب بھی حل طلب

چین نے ابھی تک سرکاری طورپر اس قانون کی منظوری کی تصدیق نہیں کی ہے اور قانون کے مسودے کو بھی عام نہیں کیا گیا ہے۔  اس لیے بہت سارے سوالوں کے جواب ہنوز باقی ہیں۔  مثلاً یہ واضح نہیں ہے کہ کس طرح کی مخصوص سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے یا ان کی وضاحت کیسے کی جائے گی اور ان کے لیے سزا کا تعین کس طرح کیا جائے گا۔

بتایا جارہا ہے کہ بیجنگ مقامی حکومت کی ''نگرانی، رہنمائی اور تعاون" کے لیے ہانگ کانگ میں ایک نیشنل سکدورٹی آفس قائم کرے گا۔

China: Proteste in Hongkong (picture-alliance/I. Abreu)

ہانگ کانگ کے لیے متنازعہ سکیورٹی قانون پر بحث شروع ہونے کے بعد سے ہی  جمہوریت نوازو ں کی طرف سے ہانگ کانگ میں کئی پرتشدد مظاہرے ہوچکے ہیں۔

نامعلوم ذرائع کے مطابق چین کی سرکاری خبر رسا ں ایجنسی سنہوا منگل کو کسی وقت اس قانون کی تفصیلات شائع کرے گی۔  ہانگ کانگ کے حکام بھی اس قانون پر تبادلہ خیال کے لیے شہر میں واقع بیجنگ کے اعلی نمائندے کے دفتر میں ملاقات کریں گے۔

اس دوران امریکا نے ہانگ کانگ کے سلسلے میں نئے سکیورٹی قانون لانے کے اعلان کے بعد ہی ہانگ کانگ کو جدید ترین ہتھیاروں کی سپلائی پر پابندی عائد کردی۔  امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے منگل کے روز ان پابندیوں کا اعلان کیا۔

پومپیو نے ایک ٹوئٹ کرکے کہا ”آج امریکا ہانگ کانگ کو دفاعی آلات اور دوہرے استعمال میں آنے والی حساس ٹکنالوجی کے برآمدات پر پابندی عائد کرنے جارہا ہے۔  اگر بیجنگ ہانگ کانگ کو ایک ملک، ایک نظام سمجھتا ہے تو ہمیں بھی یقینی طور پر ایسا ہی سمجھنا ہوگا اور ہم ہانگ کانگ اور چین میں فرق نہیں کرسکتے۔"

امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے کہا، ”ہم یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ یہ آلات اورتکنیک چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی کے ہاتھ لگ جائے، جس کا اصل مقصد چینی کمیونسٹ پارٹی کی آمریت کو ہر حال میں برقرار رکھنا ہے۔"

دفاعی برآمدات کو روکنے اور اعلی ٹکنالوجی مصنوعات تک ہانگ کانگ کی رسائی کو محدود کرنے کا یہ فیصلہ واشنگٹن نے چین کی طرف سے امریکی شہریوں کے لیے نئی ویزا پابندیوں کے نفاذ کے اعلان کے بعد کیا۔  چین نے یہ قدم امریکا کی طرف سے اسی طرح کے اقدام کے جواب میں اٹھایا تھا۔

دریں اثنا امریکی محکمہ کامرس نے بھی ایک بیان میں کہا کہ وہ ہانگ کانگ کے ساتھ ترجیحی سلوک کو معطل کررہا ہے جس میں ایکسپورٹ لائسنس سے استشنٰی شامل ہے۔  بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہانگ کانگ کو حاصل موجودہ حیثیت کو ختم کرنے کے لیے دیگر اقدامات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

ج ا /  ک م  (ایجنسیاں)

DW.COM