چین نے دنیا کا سب سے بڑا بَر بَحری جہاز تیار کر لیا | حالات حاضرہ | DW | 24.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین نے دنیا کا سب سے بڑا بَر بَحری جہاز تیار کر لیا

چین نے دنیا کا سب سے بڑا بَر بَحری جہاز تیار کر لیا ہے۔ یہ جہاز پچاس افراد کے ساتھ تقریبا بارہ گھنٹوں تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے اور اس کی تکمیل پر چینی ہوائی کمپنی نے آٹھ برس صرف کیے ہیں۔

اس جہاز کے چیف ڈیزائنر ہوآنگ کا چین کی سرکاری نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اس کی کامیاب پرواز کے ساتھ ہی چین کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہونے لگا ہے، جو اس طرح کے بڑے  بَر بَحری جہاز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘ یہ جہاز فوجی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے لیکن اسے جنگلاتی آگ بجھانے اور سمندر میں ریسکیو آپریشن کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

چین کی طیارہ ساز کمپنی ’ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چین‘ کے مطابق فی الحال انہیں اس طرح کے سترہ مزید جہاز تیار کرنے کے آرڈر مل چکے ہیں۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کے مطابق اس جہاز کا کوڈ نام ’کونلانگ‘ ہے اور اسے چین کے جنوبی شہر ژوہوئی سے اڑایا گیا تھا۔ یہ جہاز خشکی کے ساتھ ساتھ پانی میں بھی لینڈنگ کرنے اور پرواز بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی اولین آزمائشی پرواز کو چینی ٹیلی وژن پر دکھایا گیا۔ اس کی لمبائی تقریبا 37 میٹر اور پروں کا پھیلاؤ تقریبا 39 میٹر (127 فٹ) ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق ہوائی جہاز کا حجم بوئنگ 737 کے مساوی ہے۔ اس جہاز کی ٹیسٹ پرواز کا دورانیہ تقریباایک گھنٹہ تھا۔

چین کے اپنے تیار کردہ پہلے طیارہ بردار بحری جہاز کا افتتاح

 چین کا یہ اے جی 600 نامی جہاز ابھی بھی ارب پتی ہاورڈ ہيوز کے جہاز سے چھوٹا ہے، جو انہوں نے سن 1947ء میں تیار کروایا تھا۔ لیکن یہ جہاز اپنی صرف ایک ہی پرواز کر پایا تھا۔ اس جہاز کی لمبائی تقریبا 67 میٹر اور پروں کی چوڑائی تقریبا 97 میٹر تھی۔

یہ جہاز چین کے جنوب میں واقع تمام جزائر تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے۔ ان جزائر پر چین تعمیراتی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ سنگاپور ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے وابستہ دفاعی امور کے تجزیہ کار جیمز چار کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اس کی آپریشنل رینج ساڑھے چار ہزار کلومیٹر ہے اور اس رینج کے اندر اندر یہ ان تمام جزائر تک پہنچ سکتا ہے، جو چین مصنوعی طور پر تیار کر رہا ہے۔‘‘

جیمز کے مطابق چین اس جہاز کے ذریعے ان جزائر تک آسانی سے سامان پہنچا سکتا ہے اور وہاں جزائر پر تعمیراتی کام اور رن ویز جیسے منصوبوں میں تیزی لا سکتا ہے۔

بحیرہ جنوبی چین ایک اہم تجارتی گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔ اس سندری راستے کے ذریعے سالانہ تقریبا پانچ ٹریلین ڈالر کی تجارت ہوتی ہے اور چین ان تمام آبی راستوں کو کنٹرول کرنے کی اپنی صلاحیت بڑھانا چاہتا ہے۔ ان آبی راستوں میں سے چند ایک پر ملکیت کے حوالے سے گزشتہ کئی برسوں سے فلپائن چین کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ لیکن نئے فلپائنی صدر کے آنے کے بعد سے چین اور فلپائن کے تعلقات اچھے ہوئے ہیں اور فلپائن اپنے دعوے سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

DW.COM

اشتہار