چین میں سرمایہ کار اجرتوں میں اضافے سے پریشان | حالات حاضرہ | DW | 26.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین میں سرمایہ کار اجرتوں میں اضافے سے پریشان

امریکی چیمبر آف کامرس کے ایک تازہ سروے کے مطابق چین میں سرمایہ کاری کرنے والی بہت سی امریکی کمپنیوں کو وہاں کارکنوں کی اجرتوں میں اضافے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔

چینی دارالحکومت بیجنگ سے ملنے والی رپورٹوں میں خبر ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ اس بارے میں امریکی ایوان تجارت کے سروے کے نتائج ابھی حال ہی میں جاری کیے گئے ہیں۔ اس جائزے میں گھاس کاٹنے کی مشینیں تیار کرنے والی ایک مشہور امریکی کمپنی کی مثال دی گئی ہے۔

برگز اینڈ سٹریٹن ایک ایسی امریکی فرم ہے جو ایسی مشینیں تیار کرتی ہے جو لوگ اپنے گھروں کے باغیچوں میں گھاس کاٹنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس ادارے کے لیے اس کی آمدنی میں کمی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن امریکی چیمبر آف کامرس کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ اب چین میں بہت سی دوسری امریکی فرموں کو بھی برگز اینڈ سٹریٹن کی طرح کے مالی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Milwaukee Ave Polen in Chicago

برگز اینڈ سٹریٹن کا ہیڈ کوارٹر امریکی شہرمِلکووی میں ہے

برگز اینڈ سٹریٹن کا ہیڈ کوارٹر امریکی شہرMilwaukee میں ہے۔ چین میں اسے اور کئی دیگر امریکی فرموں کو کارکنوں کی اجرتوں میں مسلسل اضافے کے باعث بڑی تشویش لاحق ہے۔ Briggs & Stratton نے چین میں اپنی پیداواری سرگرمیوں کو عشروں تک بڑے بھرپور انداز میں وسعت دی۔ لیکن اب اس امریکی فرم کی طرح بہت سے غیر ملکی سرمایہ کار اداروں کو چین میں تجربہ کار ملازمین کی کمی کا سامنا ہے۔

چین میں ایسے غیر ملکی اداروں کو ایسے تجربہ کار انجینئر اور مینیجر درکار ہوتے ہیں جنہیں انگریزی بھی آتی ہو۔ لیکن اب کافی زیادہ اجرتوں کی وجہ سے ان کے لیے ایسے ملازمین کی تلاش بہت مشکل ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ اگر انہیں ایسے کارکن مل بھی جاتے ہیں تو وہ جلد ہی کام چھوڑ کر کسی دوسرے ادارے میں ملازمت شروع کر دیتے ہیں۔

ایسے چینی کارکن اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرتے۔ وہ تھوڑے سے مالی فائدے یا تنخواہ میں معمولی اضافے کی بنا پر بھی اپنا آجر ادارہ بدل لیتے ہیں۔ برگز اینڈ سٹریٹن کے ایشیا کے لیے صدر اور شنگھائی میں مقیم اعلیٰ عہدیدار مارک پلم کہتے ہیں، ’چین میں کارکنوں کی طرف سے ملازمتوں کی بہت جلد تبدیلی اب ہر کسی کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔‘

China Talfahrt an den Finanzmärkten geht weiter

مارک پلم کے بقول ان کی کمپنی میں ملازمتیں بدلنے والے کارکنوں کا موجودہ تناسب نو اور دس فیصد کے درمیان بنتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شنگھائی میں تو کارکنوں کے اس ‘ٹرن اوور‘ کی شرح اٹھارہ اور بیس فیصد کے درمیان تک پہنچ چکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چین کے کسی بھی دوسرے شہر میں اس کا نتیجہ متعلقہ ادارے کے لیے تباہ کن حالات کی صورت میں نکلتا ہے۔ لیکن شنگھائی میں تو حالات اس سے آدھے سے بھی کم برے ہیں جہاں تک کسی بھی پیداواری یونٹ کے پروڈکشن فلور کی بات ہے تو وہاں بھی اب پہلے کی طرح لامحدود سستی افرادی قوت نظر نہیں آتی۔

مارک پلم کہتے ہیں کہ چین میں کئی بڑے غیر ملکی سرمایہ کار ادارے اب ایک نئی سوچ اپنانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ انہیں مہنگی کی بجائے سستی افرادی قوت دستیاب ہو۔ اس کے لیے وہ چین کے زیادہ خوشحال ساحلی علاقوں میں قائم بڑے بڑے صنعتی خطوں کو خیرباد کہنے لگے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ملک کے اندرونی علاقوں میں اپنے صنعتی یونٹ ایسی جگہوں پر منتقل کر دیں جہاں دیہی پس منظر کی وجہ سے مزدوروں کی اجرتیں ابھی بھی کافی کم ہیں۔

اس دوران کئی غیر ملکی ادارے تو ایسا بھی کرتے ہیں کہ وہ چین سے بھی سستی افرادی قوت کی تلاش میں اب اپنے پیداواری یونٹ ویت نام جیسی ریاستوں میں منتقل کرنے لگے ہیں۔

امریکی چیمبر آف کامرس کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں امریکی سرمایہ کار کمپنیوں کے لیے اب ملازمین کی دستیابی اور ان کی بڑھتی ہوئی اجرتیں سب سے بڑی پریشانی کی وجہ ہیں۔ امریکی ایوان تجارت کے اس جائزے کے دوران 390 کمپنیوں سے چین میں ان کے کاروباری حالات کے بارے میں تفصیلی رائے لی گئی۔ اس مطالعے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مستقبل میں چین کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے سلسلے میں حالات دشوار ہوتے جائیں گے۔

امریکی چیمبر آف کامرس کے چیئرمین ٹیڈ ڈین کا کہنا ہے کہ چین کے لیے حالات کی اس دشواری کا مطلب یہ ہے کہ یہ ملک آئندہ اپنی برآمدات کے لیے سستی لیبر پر انحصار نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کار اداروں کے لیے بھی یہ کشش کم ہوتی جائے گی کہ چین میں لیبر بڑی سستی ہے۔

چینی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق سن دو ہزار نو اور دو ہزار دس کے درمیان ملک کے شہری علاقوں میں کارکنوں کی اجرتوں میں تیرہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان کارکنوں کو ملازمتیں دینے والے چینی اور غیر ملکی اداروں کے مطابق اجرتوں میں یہ اضافہ سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ رہا۔ اس کے علاوہ یہ ایک ایسا رجحان ہے جو ایک یا دو سال سے نہیں بلکہ مسلسل کئی برسوں سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: کشور مصطفٰی

اشتہار