چین میں اسمگل شدہ شمالی کوریائی دلہنوں کا غیر یقینی مستقبل | وجود زن | DW | 13.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

چین میں اسمگل شدہ شمالی کوریائی دلہنوں کا غیر یقینی مستقبل

شمالی کوریا کی خواتین بہتر زندگی کے لیے غیر قانونی طریقے سے چین کا رخ کرتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق شمالی کوریا کی ہزاروں خواتین کو سرحد پار مغربی چین کے ایک صوبے میں  بطور ’دلہن‘ فروخت کیا جا چکا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق  شمالی کوریا  میں انسانی اسمگلر، خواتین کو بہتر روزگار کا لالچ دے کر انہیں چینی مردوں کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں۔ یہ چینی مرد عموماﹰ بڑی عمر کے ہوتے ہیں۔ بیجنگ حکومت کی ایک بچے کی پالیسی کے باعث مغربی چین کے سرحدی اضلاع  میں مقیم کسان مردوں کو ازدواجی رشتے کے لیے خواتین نہیں ملتیں۔

نوّے کی دہائی کے وسط میں شمالی کوریا میں ایک ہلاکت خیز قحط کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس قحط نے نہ صرف لوگوں کی جان لی بلکہ معاشی بد حالی کو بھی جنم دیا۔ تب سے اب تک ماہرین کے اندازے کے مطابق ہزارہا شمالی کوریائی ‌خواتین کو ملازمت کا جھانسا دے کر چین میں اسمگل کیا جاتا ہے جہاں نوکری کے بجائے انہیں چینی مردوں سے شادی کرنی پڑتی ہے۔ 

نیوز ایجنسی اے پی نے شمالی کوریا کی ایسی سات متاثرہ خواتین اور تین چینی خاوندوں  سے گفتگو کی۔ چونکہ یہ متاثرہ خواتین چین میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہوئی تھیں لہٰذا انہوں نے چینی مردوں کے ساتھ قانونی طور پر شادی نہیں کی۔

چین کے مغربی صوبے ’لیاؤننگ‘ میں مقیم شمالی کوریا کی ایک متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ گیارہ سال سے ایک معذور چینی شخص کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے۔ اس خاتون نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اُسے نوکری کا لالچ دے کر بلا یا گیا تھا۔ اس خاتون کے مطابق اسے ہر وقت یہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ چینی پولیس کسی بھی وقت اسےگرفتار کرکے واپس شمالی کوریا بھیج دے گی۔ یہ خاتون اپنے بچوں کو شمالی کوریا ہی میں چھوڑ کر چین آئی تھی اور اس ‌حوالے سے اسے ہر دم پریشانی لاحق رہتی ہے۔ خاتون نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں کے لوگ اسے’غیر‘ سمجھتے ہیں اس لیے اُسے مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق بیجنگ حکومت  سخت قوانین کے ذریعے خواتین اور بچوں کی غیر قانونی مہاجرت پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

چین میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والی شمالی کوریائی خواتین میں سے چند اپنی نئی ازدواجی زندگی میں خوش ہیں۔ تاہم بعض خواتین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ چین کے ایک گاؤں میں بسنے والی پندرہ شمالی کوریائی خواتین میں سے تیرہ خواتین کو گھریلو تشدد کے باعث ایک مرتبہ پھر اپنے بچوں کو چھوڑ کر چین سے جنوبی کوریا منتقل ہونے کا کٹھن فیصلہ کرنا پڑا تھا۔

شمالی کوریا کی ان متاثرہ خواتین میں سے ایک خاتون کا غم سے بھر پور لہجے میں کہنا تھا، ’’لوگ ہمیں ماں کے بجائے مرغیاں گردانتے ہیں جو انڈوں کی طرح بچے پیدا کرتی ہیں اور پھر کسی اور جگہ منتقل ہوجاتی ہیں۔‘‘

یہ بات بھی تشویش سے خالی نہیں کہ جن بچوں کو شمالی کوریائی خواتین  مجبوراﹰ تنہا چھوڑ دیتی ہیں،سماجی دباؤ کے باعث اُن کا مستقبل بھی تاریک ہو جاتا ہے۔  

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار