چین فٹ بال کی دنیا میں ریکارڈ توڑنے کی تیاری میں | کھیل | DW | 31.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

چین فٹ بال کی دنیا میں ریکارڈ توڑنے کی تیاری میں

چین کے مختلف فٹ بال کلبس عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کو مائل کرنے کے لیے ریکارڈ تعداد میں رقوم کی پیشکش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جہاں تک فٹ بال میں سودوں کی بات ہے، چین دیگر مالک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق چینی فٹ بال کلبس کی جانب سے عالمی شہر یافتہ کھلاڑیوں کو خریدنے کی کوششیں شعوری طور پر نہیں کی جا رہی بلکہ اس کا تعلق صرف پیسوں سے ہے۔ ابھی جمعرات کو شنگھائی گرین لینڈ شینوا نامی کلب نے ارجنٹائن کے کھلاڑی کارلوس تیوز کے ساتھ دو سالہ معاہدے کا اعلان کیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ تیوز کو ہر سیزن میں 38 ملین یورو یا 40 ملین ڈالر دیے جائیں گے اور اس طرح تیوز دنیا کے مہنگے ترین فٹ بالر بن جائیں گے۔ اس اعلان سے کچھ دیر قبل شنگھائی ہی’ایس آئی پی جی‘ نے برطانوی کلب چیلسی سے برازیل کے کھلاڑی ’آسکر‘ کو 73 ملین ڈالر میں خریدنے کا اعلان کیا تھا۔

شنگھائی میں مقیم ایک تاجر ڈیوڈ ہورنبی کے مطابق،’’ کھیل کے ہر شعبے میں رقم کی ریل پیل ہے۔ ٹرانسفر فیس، رائٹس فیس، چین کے دورے ہوں یا پھر اسپانسرشپ کی رقوم، ان تمام چیزوں میں بغیر سوچے سمجھے یا کسی وجہ کے بغیر اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں اگلے برس بھی کوئی کمی نہیں آنے والی۔‘‘

چین کے کھیلوں کے شعبے سے منسلک مارک ڈرییر کہتے ہیں کہ گزشتہ برس چین نے سب کو حیران کیا تھا تاہم اس سال حیرانگی کا عنصر ختم ہو چکا ہے،’’چین فٹ بال کے میدان میں کمزور ہے اسی وجہ سے ٹیلنٹ کو خریدا جا رہا ہے۔‘‘ ڈرییر نے مزید کہا کہ چینی کلبس کی فہرست میں کرسٹیانو رونالڈو کا بھی نام ہے اور سنا ہے کہ رونالڈو کو ایک سو ملین یورو کی پیشکش کی گئی ہے،’’ میرے خیال میں پیسہ سب کچھ نہیں۔ یہ لوگ بہت سے کھلاڑی خرید سکتے ہیں لیکن رونالڈو کا خریدنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔‘‘

چین کی فٹ بال ٹیم عالمی درجہ بندی میں 82 ویں نمبر پر ہے۔ ملکی صدر شی جنگ پنگ کو امید ہے کہ ایک دن چین فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی کرتے ہوئے اسے جیتے گا۔