چین شام کو طبی تربیت اور امداد فراہم کرے گا | حالات حاضرہ | DW | 25.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین شام کو طبی تربیت اور امداد فراہم کرے گا

چین نےکہا ہے کہ وہ شام کو طبی آلات ، ادویات اور تربیت فراہم کر ے گا۔ اس حوالے سے گزشتہ ہفتے چین کے ایک سینئر عہدے دار نےجنگ زدہ ملک شام کا دورہ بھی کیا ہے۔

Volkskongress China 2013

چین شام کو طبی آلات اور ادویات کے ساتھ ساتھ انسانی بنیاد پر امداد کا دیگر سامان بھی فراہم کرے گا

تیل کی فراہمی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کے باوجود سلامتی کونسل کے دیگر مستقل رکن ممالک مثلاﹰ امریکا، برطانیہ، روس اور برطانیہ کی طرح چین مشرق وسطی کے لیے سفارت کاری میں زیادہ فعال کردار ادا نہیں کرتا۔ تاہم دوسری جانب شام کے مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنے میں چین نے کئی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت چین کی جانب سے سفارت کاروں کو شام بھیجا گیا ہے۔

بین الاقوامی فوجی تعاون کے لیے چین کے مرکزی ملٹری کمیشن کے سربراہ گوان یوفی نے شامی وزیر دفاع فہد جاسم الفریج سے گزشتہ ہفتے دمشق میں ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں شامی فوجیوں کی تربیت کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ چینی وزارت کے ترجمان وو قیان نے ایک ماہانہ نیوز بریفینگ میں بتایا ہے کہ اس سال چین اور شام کے سفارتی تعلقات کی ساٹھویں سالگرہ ہے اور دونوں ممالک نے دوستی کا ایک طویل دور دیکھا ہے۔ وزارتی ترجمان ووقیان کا نیوز بریفینگ میں مزید کہنا تھا، ’’چین نے ہمیشہ شام کے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔‘‘ وو نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت چین شام کو طبی آلات اور ادویات کے ساتھ ساتھ انسانی بنیاد پر امداد کا دیگر سامان بھی فراہم کرے گا۔ وو نے مزید وضاحت کیے بغیر یہ بھی کہا کہ انسانی بنیادوں پر ہی چین نے شام کو نرسنگ اور دیگر پیشہ ورانہ تربیت بھی فراہم کی ہے۔

بعد میں سامنے آنے والے اپنے ایک بیان میں وو نے یہ بھی کہا کہ یہ تربیت چین میں دی جائے گی۔ اگرچہ چین نے شام میں جاری فوجی کارروائی کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے تاہم شام کے لیے چین کے خصوصی ایلچی نے رواں برس اپریل میں شام میں جاری جنگ میں روس کے فوجی کردار کی تعریف کی تھی۔

DW.COM