چین سے ممکنہ کیمیائی ہتھیار کی برآمد، چند ہزار ڈالر کے بدلے | حالات حاضرہ | DW | 07.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین سے ممکنہ کیمیائی ہتھیار کی برآمد، چند ہزار ڈالر کے بدلے

چین کی کئی کاروباری کمپنیاں محض چند ہزار امریکی ڈالر کے بدلے ایک ایسا بہت طاقت ور اور مہلک ثابت ہونے والا کیمیکل برآمد کرنے پر تیار ہیں، جو ممکنہ طور پر ایک کیمیائی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

Chemiewaffenentsorgung Deutschland (Getty Images/Afp/Philipp Guelland)

کارفینٹانل ہیروئن سے بھی پانچ ہزار گنا زیادہ شدید اثرات کا حامل کیمیکل ہے

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے چین میں شنگھائی سے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ شدید نوعیت کے نشہ آور اثرات کے حامل اور مصنوعی طور پر لیبارٹری میں تیار کیے جانے والے اس کیمیکل کا نام ’کارفینٹانل‘ ہے، جو اب تک منشیات کے عادی ایسے ہزارہا انسانوں کی موت کی وجہ بھی بن چکا ہے، جنہیں اس کا استعمال کرتے ہوئے اس کے شدید نتائج کا علم نہیں تھا۔

اس بارے میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے جن بہت سے چینی کاروباری اداروں سے اس کیمیکل کی ممکنہ برآمد کے بارے میں پوچھا، ان میں سے کم از کم 12 چینی کمپنیوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممکنہ طور پر دہشت گردی کے لیے یا کیمیائی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکنے والے اس کیمیکل کو امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، بیلجیم اور آسٹریلیا جیسے ملکوں کو برآمد کرنے پر تیار ہوں گے۔

پونے تین ہزار ڈالر میں ایک کلوگرام کارفینٹانل

ساتھ ہی ان اداروں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس کیمیکل کو برآمد کرتے ہوئے درآمد کنندہ سے کوئی سوالات نہیں پوچھیں گے اور ایک کلوگرام (2.2 پاؤنڈ) تک کارفینٹانل کو محض پونے تین ہزار (2,750) امریکی ڈالر کے عوض تک بھی برآمد کیا جا سکتا ہے۔

GEKA Entsorgung chemi­scher Kampfstoffe (Reuters)

کارفینٹانل کی خشخاش کے ایک دانے جتنی مقدار بھی کسی انسان کے لیے مہلک ہو سکتی ہے

ماہرین کے مطابق انتہائی طاقت ور نشہ آور مادے کے طور پر کارفینٹانل اسی سال موسم گرما میں اس وقت اچانک ذرائع ابلاغ میں شہ سرخیوں کا موضوع بن گیا تھا، جب یہ پتہ چلا کہ صرف امریکا ہی میں اس کی وجہ سے اب تک منشیات کے عادی ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں کیونکہ کم از کم امریکا میں اس کا نشے کے طور پر استعمال وبائی حد تک زیادہ ہو چکا ہے۔

ہیروئن سے پانچ ہزار گنا شدید اثرات

جرائم کی تحقیقات کرنے والے ماہرین کے مطابق منشیات کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے گروہوں نے یہ طریقہ اپنا لیا ہے کہ وہ اپنے منافع میں اضافے کے لیے کارفینٹانل اور اس سے ملتے جلتے ایک اور بہت تیز کیمیکل فینٹانائل کو ہیروئن جیسی منشیات میں ملا دیتے ہیں، جس کے بعد یہ منشیات اور بھی زود اثر اور مہلک ہو جاتی ہیں۔

ان جملہ خطرات کے باوجود کارفینٹانل کی فروخت پر چین میں کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ کیمیائی مادہ قانونی طور پر تیاری کے بعد آسانی سے آن لائن فروخت کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکومت کا چین سے مطالبہ ہے کہ وہ کارفینٹانل کو بلیک لسٹ کر دے لیکن بیجنگ حکومت نے ابھی تک ایسا نہیں کیا۔

اعصابی گیس جیسے اثرات

کارفینٹانل کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ نشے کے لیے استعمال کے طور پر اس کے مہلک ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور ماہرین اس کا موازنہ ایسی ’اعصابی گیس‘ سے کرتے ہیں، جس کی غیر ملکی منڈیوں میں فروخت اور ترسیل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

Deutschland Medizin Medikament Schmerzmittel Fentanyl Moleküle (Imago)

فینٹانائل کے ایک مالیکیول کی تصویر

اس بارے میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی چھان بین کے دوران جب مختلف چینی کاروباری اداروں سے رابطہ کیا تو ان میں سے ایک، جی لِن ٹیلی امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کی نمائندہ ایک خاتون نے تحریری طور پر اپنی جوابی ای میل میں لکھا، ’’ہم یقیناﹰ کارفینٹانل مہیا کر سکتے ہیں۔ یہ ہماری وہ سب سے کامیاب پروڈکٹ ہے، جو ہم بیچتے ہیں۔‘‘

نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق اس سلسلے میں کسی سرکاری تبصرے یا ردعمل کے لیے عوامی سلامتی کی چینی وزارت سے کئی بار درخواست کی گئی، لیکن حکام نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

خشخاش کے ایک دانے جتنی مقدار بھی مہلک

کارفینٹانل کو کئی ملکوں میں حکام ممکنہ کیمیائی ہتھیار کیوں سمجھتے ہیں، اس کی ایک وضاحت یہ بھی ہے کہ کارفینٹانل کی خشخاش کے ایک دانے کے برابر مقدار بھی کسی انسان کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ فینٹانائل نشے کے طور پر استعمال کی جانے والی ہیروئن سے بھی 50 گنا زیادہ طاقت ور کیمیکل ہے جبکہ کارفینٹانل فینٹانائل سے بھی 100 گنا زیادہ طاقت ور کیمیائی مادہ ہے۔

ہاتھیوں کو بے ہوش کرنے کی دوا

دنیا بھر میں پہلی مرتبہ 1970ء کے عشرے میں تیار کیے جانے والے کارفینٹانل کے طبی استعمال کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ دراصل بے ہوشی کی ایک دوا ہے، جسے مثلاﹰ ہاتھیوں اور دیگر عظیم الجثہ جانوروں کے علاج سے پہلے انہیں بے ہوش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

Tiere mit Prothesen Elefant (Getty Images/P. Bronstein)

طبی طور پر یہ کیمیکل ہاتھیوں جیسے عظیم الجثہ جانوروں کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

امریکی وزارت دفاع میں 2009ء سے لے کر 2014ء تک ایٹمی، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے حملوں کے خلاف دفاع کے پروگرام کے نگران نائب وزیر دفاع کے فرائض انجام دینے والے اینڈریو ویبر کے مطابق، ’’یہ ایک ہتھیار ہے۔ کسی بھی ملک میں کاروباری اداروں کو اسے کسی بھی خریدار کو یوں بیچنا یا بھیجنا نہیں چاہیے۔‘‘

چیچن باغیوں کے خلاف استعمال

کارفینٹانل ایک مہلک کیمیائی ہتھیار بھی ثابت ہو سکتا ہے، برطانوی سائنسدانوں کی ایک ریسرچ کے مطابق اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اسے 2002ء میں روسی فورسز کے اسپیشل دستوں نے سپرے کی صورت میں اور ایئر کنڈیشننگ کے نظام کے ذریعے ایک تھیٹر میں موجود ان چیچن باغیوں کے خلاف استعمال کیا تھا، جنہوں نے وہاں سینکڑوں افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

قریب 800 افراد کو یرغمال بنا لینے کا یہ واقعہ تین دن تک جاری رہا تھا اور کارفینٹانل کے استعمال کے نتیجے میں تقریباﹰ سبھی چیچن باغی تو مارے ہی گئے تھے لیکن ساتھ ہی 120 سے زائد یرغمالی بھی اس مہلک کیمیائی ہتھیار کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

DW.COM