چین حوالگی معاملہ، ہانگ کانگ پر بین الاقوامی دباؤ | حالات حاضرہ | DW | 13.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چین حوالگی معاملہ، ہانگ کانگ پر بین الاقوامی دباؤ

ہانگ کانگ میں قانونی بل کے مسودے پر کام جاری ہے، جس کے تحت ملزموں اور مجرموں کو چین کے حوالے کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم اس پر شدید مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں، دوسری جانب عالمی تشویش بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔

ہانگ کانگ  'ایک ملک دو نظام‘ کے فارمولے کے تحت چین کا خصوصی انتظامی حصہ ہیں۔ اس طرح چین میں کمیونسٹ نظام رائج ہے، جب کہ ماضی میں برطانیہ کی نوآبادی ہانگ کانگ میں سرمایہ داری نظام رائج ہے۔ ہانگ کانگ کی بیجنگ کی جانب جھکاؤ رکھنے والی حکومت ایک قانونی مسودے پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت مستقبل میں ہانگ کانگ سے ملزموں اور مجرموں کو بیجنگ حکومت کے حوالے کیا جا سکے گا۔ تاہم اس کے ردعمل میں ہانگ کانگ میں بڑے اور پرتشدد عوامی مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔

ہانگ کانگ میں مظاہرے، آنسو گیس، فائرنگ: پارلیمان کا محاصرہ

’ایک در بند، سو در کھلے‘

بدھ کی شب ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹیو کیری لیم نے تشدد کے واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ امن کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائے گے۔ اس بل پر رائے شماری گزشتہ روز ہونا تھی، جو ایک مرتبہ پھر ایک روز کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

لیم نے تاہم بل کا یہ مسودہ واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قانونی مسودے میں پائے جانے والے 'سقم‘ ختم کرنے میں مصروف ہیں تاکہ چین میں مطلوب مجرمان ہانگ کانگ میں چھپ نہ سکیں۔

جمعرات کی صبح  گزشتہ روز مظاہروں کی وجہ سے سڑکوں پر بکھرے کچرے کی صفائی کے کام کے آغاز اور وہاں بارش کے باوجود ایک مرتبہ پھر مظاہرہ کیا۔

ہانگ کانگ کی مرکزی انتظامیہ کے دفاتر جمعے اور ہفتے کو بند رہے گے جب کہ ہانگ کانگ کے مرکزی مالیاتی ضلعے میں بھی کسی قسم کی کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کی عمارت کے قریب ایک بڑا شاپنگ مال اور متعدد بینک بھی جمعرات کو بند ہیں جب کہ مسلح پولیس اہلکار اور پولیس کی گاڑیوں اس علاقے میں تعینات ہیں۔ خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے قریبی علاقوں میں سادہ لباس سکیورٹی اہلکار راہ گیروں سے شناخت بھی طلب کرتے دیکھے گئے ہیں۔

اتوار کے روز ہانگ کانگ کے اس وسطی حصے میں ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا تھا، جب کہ اس کے بعد بھی روزانہ کی بنیاد پر اس بل کے خلاف مظاہرے جاری تھے، جس کی وجہ سے اسمبلی میں اس بحث پر بحث نہیں ہو پائی تھی۔ بدھ کی شب ان پرتشدد مظاہروں کے اعتبار سے مسلسل تیسری رات تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اتوار کو ہونے والے مظاہرے میں قریب ایک ملین افراد شامل ہوئے تھے، جو سن 1997 میں برطانیہ سے ہانگ کانگ کا انتظام چین کے سپرد کیے جانے کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا عوامی مظاہرہ تھا۔

بین الاقوامی تشویش

یورپی یونین نے ہانگ کانگ میں اس قانونی بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہانگ کانگ کے شہریوں کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین ہانگ کانگ کے شہریوں کی جانب سے اس قانونی بل پر اٹھائے گئے متعدد اعتراضات کو جائز سمجھتی ہے۔

حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے بھی ایک بیان میں ہانگ کانگ کے حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اس قانونی ذمہ داری کو پورا کریں، جس کے تحت عوام کو پرامن مظاہروں کے ذریعے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فریقین پرامن طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کریں اور ہانگ کانگ کے حکام اس قانون پر شفاف اور اجتماعیت پر مبنی بحث شروع کریں۔

ع ت، ع الف (ڈی پی اے، اے ایف پی)

DW.COM