چین ایغور حراستی مراکز بند کرے، ترکی | حالات حاضرہ | DW | 10.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

چین ایغور حراستی مراکز بند کرے، ترکی

ترکی نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مغربی صوبے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے لیے بنائے گئے حراستی مراکز بند کرے، کیوں کہ یہ انسانیت کے لیے شرم ناک ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ان مراکز میں قریب ایک ملین ایغور باشندے موجود ہیں۔ گزشتہ ہفتے انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے یورپی یونین اور مسلم اقوام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے ذریعے ان حراستی مراکز کی تفتیش کے لیے آگے بڑھیں۔ ان حراستی مراکز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں ایغور مسلم باشندوں کو ’جبری نفسیاتی علاج‘ کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔

چین اسلامی اقدار میں ’ترامیم‘ سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

اللہُ اکبر، ’کمیونسٹ دفع ہو جاؤ‘

ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوئے نے ہفتے کو رات دیر گئے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’ایک منظم انداز سے ترک نسل کے ایغور باشندوں کے خلاف جاری پالیسی انسانیت کے لیے بڑی ہی شرم کی بات ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ان حراستی مراکز میں موجود ترک نسل کے ایغور مسلمانوں کی تعداد ایک ملین سے زائد ہے، جنہیں تشدد اور سیاسی برین واشنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

ترکی کی جانب سے یہ بیان ایغور شاعر اور موسیقار عبدالرحمان حیات کی چینی حکام کی حراست میں ہلاکت کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ چینی حکومت اپنے اس پروگرام کو ’انسداد شدت پسندی‘ کا نام دیتی ہے، جس کے تحت مغربی صوبے سنکیانگ میں متعدد مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں ایغور نسل کے باشندوں کی بڑی تعداد کو ’نفسیاتی تربیت‘ سے گزارا جاتا ہے۔ انقرہ حکومت نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

بیجنگ حکومت کا موقف ہے کہ چین اپنے ہاں موجود نسلی اقلیتوں اور ان کے مذاہب اور ثقافت کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے، تاہم سنکیانگ میں سکیورٹی معاملات کے تناظر میں ایسے گروپوں کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جو تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔ اس سے قبل ایغور مسلمانوں کی جانب سے چین پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ بیجنگ حکومت ایغوروں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت مٹانے کے عمل میں مصروف ہے۔

ع ت، م م (روئٹرز)

DW.COM