چینی معیشت کی شرح نمو میں ریکارڈ کمی | معاشرہ | DW | 17.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

چینی معیشت کی شرح نمو میں ریکارڈ کمی

گزشتہ برس چینی معشیت کی شرح نمو حکومتی تخمینوں کے مطابق ہی رہی تاہم یہ گزشتہ تین عشروں میں یہ کم ترین ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ دو ہزار انیس میں مجموعی طور پر چینی معاشی ترقی کی شرح چھ اعشاریہ ایک فیصد ہی رہی، جو کہ گزشتہ 29 برسوں میں سب سے کم شرح نمو ہے۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور معاشی ترقی کی شرح نمو بہتر کرنے کے لیے اس نےگزشتہ دو برسوں میں کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔

 اکثر دکانیں بند، کاروبار ٹھپ 

آئی  ایم ایف بیل آؤٹ پیکج،  امریکا کو تحفظات

چین میں قومی ادارہ برائے شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس چینی معیشت کی شرح نمو چھ اعشاریہ ایک فیصد رہی جو سن 1990 سے اب تک سب سے کم ہے۔ بیجنگ نے بھی ترقی کی شرح کا تخمینہ چھ اعشاریہ صفر اور چھ اعشاریہ پانچ فیصد کے درمیان ہی رکھا تھا۔ حکومت نے اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ معیشت کو دباؤ اور عدم استحکام جیسے خطرات کا سامنا ہے۔    

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں گھریلو صارفین کی جانب سے اشیاء کی مانگ میں کمی آئی ہے، وہیں امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی نے چین کی معاشی ترقی کی رفتار کو اس کم سطح تک پہنچایا ہے۔ امریکی صدردونلڈ ٹرمپ  نے چینی اشیاء پر اضافی ٹیکس عائد کیا جس سے چینی برآمدات پر برا اثر پڑا۔ حالانکہ بعض اقتصادی ماہرین نے امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے تعلق سے چینی معیشت پر جن بڑے پیمانے پر برے اثرات کی پیش گوئی کی تھی اس کا اتنا اثر نہیں دیکھا گيا۔

ویڈیو دیکھیے 02:03

چین کے 70 برس پر ایک نظر

چند روز قبل ہی  امریکا اور چین کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پایا ہے، جس سے دونوں میں بہتر تجارتی تعلقات کی امید جاگی ہے۔ اسی کی وجہ سے مینوفیکچرنگ سیکٹر اور بزنس کانفیڈینس ڈیٹا میں بہتری بھی درج کی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا چینی اشیاء پر مزید اضافی ٹیکس نہیں لگائے گا لیکن بدلے میں چین کو بھی آئندہ دو برس میں دو سو ارب ڈالر کی امریکی اشیاء خریدنا ہوں گی۔ تاہم ابھی تک دونوں نے ایک دوسرے پر جو اضافی ٹیکس عائد کیے تھے وہ برقرار ہیں۔ 

تاريخی اعتبار سے چین کی معیشت بہت تیزی سے ترقی کرتی رہی ہے اور اس صدی کے پہلے عشرے میں چینی معیشت کی شرح نمو دس فیصد سے کبھی کم نہیں ہوئی تھی۔اگرچہ گزشتہ برس چینی معیشت کی ترقی کی شرح کم ہوئی ہے لیکن اگر دنیا کی دوسری بڑی معیشتوں سے موازنہ کیا جائے تو اس کے مقابلے میں وہ اب بھی کافی آگے ہے۔

ایک ایسے وقت جب چین کی معیشت چھ فیصد کی شرح سے آگے بڑے رہی ہے، امریکی معیشت کی رفتار اس سے بہت کم ہے۔ امریکی سینٹرل بینک کا کہنا ہے کہ رواں برس امریکی معشیت کی شرح نمو دو اعشاریہ دو فیصد کے آس پاس رہنے کی توقع ہے۔

ز ص، ع ت (روئٹرز، اے ایف پی)

ملتے جلتے مندرجات