1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تصویر: Imago Images/H. Lucas
سیاستشمالی امریکہ

چہرے پہچاننے والا کلیئر ویو سافٹ ویئر، عالمی سطح پر تنقید

15 جون 2021

کلیئر ویو نامی کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے ذریعے چہرے پہچان لینے والے سافٹ ویئر پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس فرم کے سربراہ نے تاہم اس نئی ٹییکنالوجی کا دفاع کرتے ہوئے اس تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/3uwop

جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی طرف سے بون میں اہتمام کردہ سالانہ گلوبل میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کمپنی کلیئر ویو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اپنے ادارے کے تیار کردہ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی بھی انسان کے چہرے کو پہچان لینے والے سافٹ پر عالمی سطح پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا۔ ان کی کمپنی کے اس سافٹ ویئر پر کئی ممالک میں قومی ریگولیٹرز کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

کِلر روبوٹس پر پابندی لگائی جائے، ہیومن رائٹس واچ

دو ورزہ گلوبل میڈیا فورم کے پہلے دن اس بین الاقوامی اجتماع کے شرکاء سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کلیئر ویو کے سربراہ نے کہا کہ ان کا ادارہ جو بھی معلومات جمع کرتا ہے، وہ سب قانونی ہوتی ہیں اور عوام کو ان معلومات تک رسائی بھی حاصل ہے۔ کلیئر ویو کو اس وجہ سے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے کہ اس کمپنی کا تیار کردہ متنازعہ سافٹ ویئر مبینہ طور پر سینکڑوں ملین انسانوں کے پرائیویسی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

اس بارے میں کلیئر ویو کے سی ای او ہوآن ٹون تھاٹ نے پیر کی شام دعویٰ کیا کہ اس سافٹ ویئر کے ذریعے ان کی کمپنی کسی کے بھی حقوق کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہو رہی۔

ٹیکنالوجی کمپنی کلیئر ویو اے آئی کے سربراہ ہوآن ٹون تھاٹتصویر: privat

پانچ یورپی ممالک میں درج شکایات

عوام کے پرائیویسی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں کی طرف سے Clearview AI کے خلاف اب تک کم از کم پانچ یورپی ممالک میں حکام کو باقاعدہ شکایات درج کرائی جا چکی ہیں۔ ان اداروں کا دعویٰ ہے کہ اس کمپنی کا سافٹ ویئر، جو اربوں کی تعداد میں تصاویر کا موازنہ کر کے چہروں کو پہچان لینے والے ایک سرچ انجن کے طور پر کام کرتا ہے، برطانیہ اور یورپی یونین کے بہت سخت پرائیویسی قوانین کے منافی ہے۔

یہ تنازعہ اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت کا زیادہ سے زیادہ ہوتا جا رہا استعمال نگرانی کے عمل کو ایسی نئی انتہا تک لے گیا ہے، جس کی آج سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔

فوجی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال، امریکا نے قواعد بنا لیے

کلیئر ویو سافٹ ویئر بہت سے ممالک میں زیر استعمال

گلوبل میڈیا فورم کے پہلے دن ایک مباحثے کے 120 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس بارے میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایک سینیئر ریسرچر آموس توہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ حکومتیں اور ادارے اس طرح کا facial recognition سافٹ ویئر استعمال کرنے لگے ہیں، تاکہ عام شہریوں اور صارفین پر نظر رکھ سکیں۔ آموس توہ کے مطابق سب سے متنازعہ پہلو یہ ہے کہ اس سافٹ ویئر کی مدد سے کسی بھی ہجوم میں افراد کو ان کی چہروں کی مدد سے انفرادی سطح پر بھی پہچانا جا سکتا ہے۔

GMF2021 | Speaker | Amos Toh
ہیومن رائٹس واچ کے ریسرچر آموس توہتصویر: Human Rights Watch

آموس توہ نے فورم کے شرکاء کو بتایا، ''ہم نے دیکھا ہے کہ اس سافٹ ویئر کو روس جیسے ممالک میں پرامن مظاہرین کی شناخت کے تعین کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسی طرح کے چہروں کو پہچان لینے والے سافٹ ویئر کو ارجنٹائن میں بچوں تک کو پہچاننے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔‘‘

مستقبل کی جنگوں کے ’قاتل روبوٹ‘، دنیا کے لیے نیا خطرہ

ہیومن رائٹس واچ کے اس عہدیدار نے شکایت کی کہ اس سافٹ ویئر کو ممکنہ طور پر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور عام لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

ایسے سافٹ ویئر کی عالمی منڈی کا حجم

دنیا بھر میں اس وقت سینکڑوں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیاں چہروں کو پہچاننے والے سافٹ ویئرز پر کام کر رہی ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ گزشتہ برس اس شعبے کی عالمی منڈی کا مالیاتی حجم  تقریبا 10 بلین ڈالر یا 8.25 بلین یورو رہا تھا۔

ایک جاپانی ٹمپل میں ’ایمان‘ روبوٹ کے ہاتھوں میں

دوسری طرف یہ بات بھی اہم ہے کہ اس میدان میں کسی دوسری کمپنی پر بین الاقوامی سطح پر اتنی شدید تنقید دیکھنے میں نہیں آئی، جتنی کلیئر ویو اے آئی پر۔ ایک اور متنازعہ پہلو یہ بھی ہے کہ کلیئر ویو نے اربوں کی تعداد میں جن تصاویر کی مدد سے اپنی فوٹو ڈیٹا بیس تیار کی، ان میں سے بہت بڑی تعداد میں تصاویر فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹس سے لی گئی ہیں۔

سافٹ ویئر کے کام کرنے کا طریقہ

کلیئر ویو کا سافٹ ویئر ایسے کام کرتا ہے کہ وہ ادارے، جو مالی ادائیگیوں کے بعد اس سافت ویئر کو استعمال کرتے ہیں، جب کسی انسان کے بارے میں معلومات چاہتے ہیں، تو اس کی کوئی ایک فوٹو اپ لوڈ کرنے سے اس انسان کی بہت سے دیگر ممکنہ تصاویر سامنے لانے کے علاوہ یہ سافٹ ویئر اس مرد یا عورت کے بارے میں بہت سی ممکنہ نجی معلومات بھی مہیا کر دیتا ہے کہ متعلقہ فرد کون ہو سکتا ہے۔

کئی ممالک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اس سافٹ ویئر کے استعمال کے حامی اس لیے ہیں کہ ان کے بقول یوں ان کے لیے دہشت گردی، عسکریت پسندی اور بچوں اور عورتوں سے جنسی زیادتی کرنے والے مطلوب مجرموں کی تلاش آسان ہو جاتی ہے۔

چین کا اسکول، بچوں کا کوئی جذبہ خفیہ نہیں رہے گا

اس حوالے سے کلیئر ویو اے آئی کے سربراہ تون تھاٹ نے گلوبل میڈیا فورم کے شرکاء کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے اب اپنے گاہکوں میں سے نجی اداروں کے تمام اکاؤنٹ ختم کر دیے ہیں۔ ان کے بقول، ''اب ہم یہ سافٹ ویئر صرف قانون نافذ کرنے والے سرکاری اداروں کو ہی مہیا کرتے ہیں۔‘‘

مختلف ممالک میں حکام کی رائے

کینیڈا کے پرائیویسی کمشنر نے گزشتہ ہفتے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ کینیڈین پولیس کی طرف سے اس سافٹ ویئر کا استعمال پرائیویسی قوانین کے منافی ہے۔ گزشتہ موسم گرما میں یورپی یونین کے ڈیٹا پرائیویسی کے نگران ادارے نے بھی کہہ دیا تھا کہ پولیس کی طرف سے اس سافٹ ویئر کا استعمال ممکنہ طور پر یورپی ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے منافی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ہتھیار: مستقبل میں جنگیں کیسے ہوں گی؟

جرمنی میں ایک صوبائی ڈیٹا پروٹیکشن ایجنسی بھی اس سافٹ ویئر کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے جبکہ سویڈن میں ریگولیٹرز نے اس سال فروری میں کہہ دیا تھا کہ ملکی پولیس کی طرف سے اس سافٹ ویئر کا استعمال غیر قانونی تھا۔

کیا مستقبل میں مشینوں کو بھی جیل جانا پڑے گا؟

اس کے علاوہ اسی سافٹ ویئر کے خلاف ڈیٹا پرائیویسی کے شعبے کی متعدد غیر سرکاری تنظیمیں آسٹریا، فرانس، یونان، اٹلی اور برطانیہ میں باقاعدہ قانونی شکایات بھی درج کرا چکی ہیں۔

سافٹ ویئر پر پابندی اب تک نہیں لگائی گئی

بین الاقوامی سطح پر کلیئر ویو اے آئی کے اس سافٹ ویئر پر کئی ممالک میں منفی فیصلوں کے باوجود باقاعدہ پابندی اب تک نہیں لگائی جا سکی۔ یورپ میں اس سافٹ ویئر کے خلاف شکایات کی ایک بنیاد یہ بھی ہے کہ کلیئر ویو نے اپنی ڈیٹا بیس میں یورپی صارفین سے متعلق جو معلومات جمع کیں، ان کے لیے متعلقہ شہریوں سے کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی۔

پانچ یورپی ممالک میں اس سافٹ ویئر کے خلاف درج شکایات پر متعلقہ ملکی حکام کے ممکنہ فیصلے غالباﹰ آئندہ چند ہفتوں میں سامنے آ جائیں گے۔

یانوش ڈَیلکر (م م / ک م)

قاتل روبوٹ کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں؟

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Pakistan | General Syed Asim Muni

پاکستان کے نئے آرمی چیف کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں