’چراغ طور جلاؤ‘ مہدی حسن کے بعد ’بڑا اندھیرا ھے‘ | فن و ثقافت | DW | 18.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

’چراغ طور جلاؤ‘ مہدی حسن کے بعد ’بڑا اندھیرا ھے‘

مہدی حسن غزل گائیکی میں بے مثال مہارت کے حامل انتہائی منفرد فنکار تھے۔ وہ اپنی راگ داری کی بے پناہ صلاحیتوں کا جس انداز میں استعمال کرتے تھے، اس کی مثال دینا انتہائی مشکل ہے۔

اٹھارہ جولائی سن 1927 کو بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع جودھ پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں لُونا میں پیدا ہونے والے بچے کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک دن آسمانِ گائیکی کا یہ ایک ستارہ بنے گا۔ مہدی حسن خان نے بچپن سے ہی گائیکی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کرنا شروع کر دی تھی۔ استاد عظیم خان اور اسماعیل خان کلاسیکی موسیقی کے دُھرپد اسلوب کے فنکار تھے۔

دھرپد گائیکی میں حاصل کی گئی تربیت ہی نے مہدی حسن کو غزل گائیکی میں ایک منفرد انداز بخشا۔ وہ راگ داری پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے۔ کئی محافلِ موسیقی میں ملتے جلتے راگوں کے فرق کو اپنے سامعین کے لیے آسان فہم انداز میں بیان کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح ان کے گائے ہوئے فلمی گیت بھی شاندار خیال کیے جاتے ہیں۔

مہدی حسن نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ قریب سبھی براعظموں میں کیا ہے۔ ہر جگہ ان کے فن کو شاندار پذیرائی حاصل ہوئی۔ اُن کے فن کے معترف صرف عام سامعین ہی نہیں تھے بلکہ کلاسیکی موسیقی کے فنکار اور ہلکی پھلکی موسیقی کے گلوکار بھی انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

Pakistan Sänger Mehdi Hasan (Rizwan Tabassum/AFP/Getty Images)

مہدی حسن بلاشبہ بیسویں صدی کے ایک عظیم فنکار تھے

مشہور زمانہ بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔ موسیقی کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ مہدی حسن نے مشہور غزل گانے والوں کے عہد میں ایک منفرد اسلوب کو متعارف کرایا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوابا۔ ماہرین کا یہ بھی متفقہ خیال ہے کہ وہ پیدائشی فنکار تھے اور اُن کو ودیعت کی گئی قدرتی صلاحیتیں وقت کے ساتھ ساتھ اور ان کے مسلسل ریاض سے نکھرتی چلی گئیں۔

یہ ایک عام تاثر ہے کہ مہدی حسن کے اندازِ گائیکی نے پاکستان میں کئی گلوکاروں کو متاثر کیا اور اسی طرح بھارت میں جگجیت سنگھ اور انوپ جلوٹا سمیت نئے گلوکار بھی متاثر دکھائی دیے۔ غزل گائیکی کے مشہور پاکستانی گلوکار غلام علی کا کہنا ہے کہ مہدی حسن خان نے جس فن کا مظاہرہ کیا ہے وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ غلام علی بھی پاکستان اور بھارت میں اپنی غزل گائیکی میں ایک جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔

مہدی حسن خان تیرہ جون سن 2012 کو انتقال کر گئے تھے لیکن اُن کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پورا کرنے کے لیے کوئی اور فنکار اب تک دکھائی نہیں دیتا۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ جس طرح پاکستان میں جمالیاتی فنون کو زوال کا سامنا ہے، ایسے میں کسی اور مہدی حسن کے ابھرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری جانب بھارت میں بھی بظاہر کلاسیکی موسیقی کی ترویج تو جاری ہے، لیکن غزل گائیکی کا میدان خالی ہے۔ جگجیت سنگھ کے انتقال کے بعد وہاں بھی غزل گائیکی اجڑتی ہوئی دیکھی جا رہی ہے۔

DW.COM