چاند کی مٹی میں پودے اگا لیے گئے | سائنس اور ماحول | DW | 17.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

چاند کی مٹی میں پودے اگا لیے گئے

سائنسدانوں نے چاند کی مٹی میں پودے اگانے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ اس سے اب یہ امید ہو چلی ہے کہ مستقبل میں چاند پر خوراک اگائی جا سکے گی اور پانی تیار کیا جا سکے گا۔

فلوریڈا یونیورسٹی کے محققین نے چاند کی مٹی میں پودے اگانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور ان میں سے ایک محقق نے تو یہ دعویٰ تک کیا ہے کہ اس مٹی میں 'خلا کی تسخیر کے خواب کی تعبیر کا مواد‘ بھی موجود ہے۔

چاند تک پہنچنے کی دوڑ: يورپ کيوں پيچھے رہے؟

چاند پر پہلا جوہری پلانٹ، مگر کیوں؟

جرنل کمیونیکشن بائیولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ مطالعہ مستقبل میں چاند کے لیے بھیجے جانے والے مشنز پر اثرات مرتب کرے گا۔

اس تحقیقی رپورٹ کے شریک مصنف راب فیرل کے مطابق محققین چاند کی جانب بھیجے جانے والے خلانوردوں کی مدد کر سکتے ہیں تاکہ وہ زمین سے خوراک کی مسلسل ترسیل کی بجائے چاند ہی پر اپنی خوراک خود پیدا کر سکیں۔

فیرل کے مطابق، ''جب انسان ایک تہذیب کے طور پر کہیں جاتا ہے، تو یہ سفر فقط چند دنوں کا نہیں ہوتا بلکہ وہاں قیام کا ہوتا ہے۔ ایسے میں اپنی زراعت ساتھ لے جانا بہت ضروری ہے۔‘‘

Pflanzenforschung | Pflanzen wachsen auf Mondboden

چاند کی مٹی میں پودے کو دباؤ کا شکار دیے، مگر اگ گئے

خلانوردوں کے لیے غذائی سیکورٹی کے علاوہ سائنسدانوں نے اس عمل کے دیگر فوائد بھی بتائیں ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ غذا خود اگانے کا یہ عمل چاند پر موجود خلانورد ہوا کو صاف کرنے، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرنے اور صاف پانی پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔

چاند کی مٹی میں پودے کیسے اگائے گئے؟

سائنسدانوں نے چاند کی مٹی میں عربیڈوپسس پودے اگائے۔ چاند کی یہ مٹی پچاس برس قبل زمین پر لائی گئی تھی۔ سن 1969 کے اپالوگیارہ اور اپالو بارہ اور 1972 کے اپالو 17 مشنز کے ذریعے چاند کی یہ مٹی خلانورد ساتھ لائے تھے۔

اس تجربے میں ایک گرام مٹی والے کنٹینر میں بیج دبائے گیے اور انہیں سورج کی روشنی اور غذائیت دی گئی۔ سائنسدانوں نے آتش فشانی خاک کو بھی بیج دبا کر پودے حاصل کرنے کے اس تجربے کا حصہ بنایا کیوں کہ آتش فشانی خاک کے عناصر چاند کی مٹی سے ملتے جلتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ان دونوں گروپس میں مثبت نشوونما دیکھی گئی، تاہم چند روز بعد دیکھا گیا کہ چاند کی مٹی میں اگنے والے پودے قدرے دباؤ کا شکار ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق آتش فشانی خاک میں اگائے جانے والے عربیڈوپسس کے مقابلے میں چاند کی مٹی میں اگائے جانے والا عربیڈوپسس نشوونما میں بہت پیچھے دیکھا گیا۔ تاہم فیرل کے مطابق اس مٹی میں پودے کا اگ جانا خود ہی میں ایک مثبت دریافت ہے۔

ع ت، ا ا (کلارے روتھ)