پی ایس ایل کا لاہور میں عالیشان فائنل، کرکٹ کی جیت | کھیل | DW | 06.03.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پی ایس ایل کا لاہور میں عالیشان فائنل، کرکٹ کی جیت

ناقدین کا کہنا ہے کہ اک پل گماں اک پل یقیں کی حالت سے کئی ہفتے گزرنے کے بعد آخر کار لاہور نے پاکستان سپر لیگ کے فائنل کی میزبانی کا حق ادا کر دیا۔

اتوار کی شب ستائیس ہزار شائقین سے کھچا کھچ بھرے اور جگمگاتے قذافی اسٹیڈیم میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی معرکہ آرائی دیکھنے کے لیے ملک کے صف اول کے سیاستدان، جرنیل، تاجر، فلم اسٹارز، سنگرز، دانشور اور لاہوری عمائدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

زلمی چیمپئن، کوئٹہ جنوفی افریقہ کی راہ پر چل نکلا ؟

فائنل میں زلمی نے گلیڈی ایٹرز کو 58 رنز سے با آسانی ہرا کر ٹائٹل جیت لیا۔ پشاور زلمی کی قیادت ویسٹ انڈیز کو دو بار ٹونٹی ٹونٹی عالمی کپ جتوانے والے کپتان ڈیرن سیمی کررہے تھے۔ کامیابی پر دلکش ٹرافی کے ساتھ زلمی کو پانچ لاکھ امریکی ڈالرز کی انعامی رقم پیش کی گئی۔

پاکستان سپر لیگ کا ٹائٹل پشاور زلمی کے نام

پی ایس ایل کا فائنل: سکیورٹی انتہائی سخت

دوسری ’پاکستان سپر لیگ‘ کے ہنگامہ خیز میچ شروع ہونے کو

ڈیرن سیمی کو میچ میں تین فلک بوس چھکے لگانے اور شاندار کپتانی کرنے پر مین آف دی فائنل کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز جسے کامیابی کے لیے 149 رنز بنانا تھے 90 رنز پر ہی اپنے انجام کو پہنچ گئی اور اس طرح کوئٹہ کو مسلسل دوسرے سال فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کوئٹہ کے دوسرا فائنل ہارنے پر پاکستان کے ایک سابق کرکٹر نے تبصرہ آرائی کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا کوئٹہ جنوبی افریقہ کے راستے پر چل نکلا ہے جو ورلڈ کپ کے پہلے راونڈ میں ہمیشہ سب سے اچھا کھیلنے کے بعد ناک آوٹ مرحلے میں ہمت ہارنے کے لیے بدنام ہے۔ کرکٹ کی دنیا میں اس کمزوری کی وجہ سے جنوبی افریقہ کو 'چوکرز' کہا جاتا ہے۔

سات ممالک کے کھلاڑی اور ڈیرن سیمی خان

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے تمام غیرملکی کرکٹرز جن میں کیون پیٹرسن، ریلی روسو، لیوک رائٹ اور تمائل ملز شامل تھے، سیکورٹی خدشات کے باعث لاہور آنے سے انکار کیا۔ ان کے متبادل بنگلہ دیش کے انعام الحق، جنوبی افریقہ کے مورنی وینوک، زمبابوے کے شان ارون اور ویسٹ انڈیز کے رائڈ ایمرٹ نے کوئٹہ کی فائنل میں نمائندگی کی۔

کوئٹہ کے مینٹور ویوین رچرڈز بھی تیس سال بعد لاہور آئے تھے۔ پشاور کے لاہور آ کر کھیلنے والے غیرملکیوں میں ویسٹ انڈیز کے ڈیرن سیمی اور مارلن سیموئل کے علاوہ انگلینڈ کے کرس جارڈن اور ڈیوڈ ملان بھی شامل تھے۔

میچ میں سری لنکا کے مشہور کرکٹر روشن ماہناما نے میچ ریفری اور رینمور مارٹینز نے امپائرنگ کے فرائض انجام دیے جبکہ آسٹریلیا کے ڈین جونز اور سری لنکا کے ایرک گاروڈر غیرملکی کامنٹیٹرز میں شامل تھے۔ فائنل میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے بنگلہ دیش اور آئی سی سی اور کرکٹرز کی عالمی تنظیم فیقا کے سکیورٹی ماہرین بھی لاہور آئے تھے۔

اس طرح پی ایس فائنل میں ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، زمبابوے، آسٹریلیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے کرکٹرز فیلڈ پر اور آف دی فیلڈ موجود رہے۔ وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی امور ریاض پیرزادہ  کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کھلاڑیوں خاص طور پر ویوین رچرڈز اور ڈیرن سیمی نے پاکستان کی عزت بڑھائی۔

ریاض پیرزادہ نے کہا کہ سیمی کا نام ڈیرن سیمی خان ہونا چاہیے۔ میچ شروع ہونے سے پہلے ڈیرن سیمی اور پشاور زلمی کے کھلاڑی تماشایوں میں گھل مل گئے اور ڈیرن سیمی نے وسیم اکرم انکلوژر میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ سیلفی بنائی ایک فوجی نے اس موقع پر اپنی سرخ کیپ بھی سیمی کو تحفہ دے دی۔ میچ کے بعد ڈیرن سیمی نے بتایا کہ لاہور آنے کے لیے انہیں شاہد آفریدی نے قائل کیا اور پھر ان کی والدہ اور بیگم نے دعاؤں کے ساتھ اجازت دی۔

سیاست بری بلا ہے

میچ کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ قذافی اسٹیڈیم کے گرد ایک کلومیٹر کا علاقہ ریڈ زون بنا رہا، تماشایوں کو دور دور تک پیدل اور سات مقامات پر سکیننگ کے عمل سے گزرنا پڑا البتہ پنجاب حکومٹ شائقئن کے لیے چلائی گئی شٹل سروس کو سب نے سراہا۔

یہ میچ دیکھنے کے لیے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف، سندھ اور سرحد کے گوررنر، وفاقی وزراء، عسکری قیادت، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان بھی موجود تھیں۔

حکومت مخالف سیاست دان شیخ رشید عام تماشائیوں میں بیٹھے رہے۔ اس میچ کے انعقاد کا نظم وضبط مثالی لگ رہا تھا کہ اچانک میچ سے پہلے ہونے والی تقریب میں اس وقت منتظیمن کو سبکی اٹھانا پڑی، جب تماشایوں نے اچانک گو نواز گو کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر میچ کا فضائی نظارہ کیا۔

کامران اکمل پر ڈالرز کی بارش اور مصباح کا دعوت نامہ

پشاور زلمی کے کامران اکمل کو 353 رنز بنانے پر ٹورنامنٹ کا بہترین بیٹسمین اور وکٹ کیپر قرار دیا گیا۔ کامران کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا بھی حقدار ٹھہرایا گیا اور انہیں 65 ہزار امریکی ڈالرز کی انعامی رقم دی گئی۔

کراچی کنگر کے سہیل خان ایونٹ کے بہترین بولر

حیران کن طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کو فائنل دیکھنے کی دعوت نہ دی۔ میچ شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے مصباح اور ان کی بیگم کو اسلام آباد یونائیٹد کے مالک علی نقوی نے اپنے کوٹے سے ٹکٹ بھجوا کر قذافی اسٹیڈیم مدعو کرلیا۔ میچ کے بعد مصباح کو آئی سی سی کی جانب سے خصوصی ایوارڈ بھی پیش کیا گیا۔

DW.COM

اشتہار