پی آئی اے کا ایک مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، تلاش شروع | حالات حاضرہ | DW | 07.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پی آئی اے کا ایک مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ، تلاش شروع

پاکستانی فضائی کمپنی پی آئی اے کا ایک مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ طیارہ شمالی شہر چترال سے اسلام آباد جا رہا تھا۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ایک ترجمان دانیال گیلانی نے بتایا کہ اس طیارے پر سینتیس مسافر سوار تھے۔ دیگر خبر رساں اداروں میں مسافروں کی تعداد سینتالیس بھی بتائی جا رہی ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے پاکستانی ٹی وی چینلز کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ سات دسمبر کو اس طیارے کا چترال سے سہ پہر تین بج کر پچاس منٹ پر اپنی پرواز شروع کرنے کے تھوڑی ہی دیر بعد گراؤنڈ کنٹرول کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

روئٹرز کے مطابق جیو نیوز اور ڈان نیوز نے یہ بتایا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے اے ٹی آر بیالیس کی پرواز 661 پر سینتالیس افراد موجود تھے، جن میں بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق غالباً سابقہ گلوکار اور موجودہ مذہبی شخصیت جنید جمشید بھی شامل تھے۔

Junaid Jamshed DVD Pakistan (picture-alliance/AP Photo/B.K. Bangash)

اس طیارے کے مسافروں میں غالباً جنید جمشید بھی شامل تھے اور اُن کی فیملی بھی اُن کے ہمراہ تھی

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ فوجی دستے اور ہیلی کاپٹر حویلیاں کے قریب اس طیارے کو تلاش کر رہے ہیں۔

مقامی ٹی وی چینلز عینی شاہدین کے حوالے سے بتا رہے ہیں کہ پہلے اس طیارے میں آگ لگی تھی اور اب اس کے ملبے سے دھواں اٹھتا دیکھا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے فوری طور پر ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔