پیرس کے عارضی کیمپ سے مہاجرین کی منتقلی | مہاجرین کا بحران | DW | 02.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

پیرس کے عارضی کیمپ سے مہاجرین کی منتقلی

پولیس نے پیرس کے قریب واقع ایک میٹرو اسٹیشن کے قریب پناہ لیے ہوئے ایک ہزار سے زائد مہاجرین کو مہاجرین کے مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے کہ پولیس نے مہاجرین سے یہ کیمپ خالی کرایا ہے۔

پیرس کے شمال میں واقع میٹرواسٹیشن اسٹالن گراڈ میں بنائے گئے کیمپ کو مہاجرین سے خالی کرانے کا آپریشن پیر دو مئی کی علی الصبح چھ بجے شروع کیا گیا۔ گزشتہ چند ماہ میں پولیس اس سے قبل بھی اس اسٹیشن میں عارضی ٹینٹ لگا کر رہنے والے مہاجرین کو مختلف مہاجر بستیوں میں منتقل کر چکی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے ان مہاجرین کو صبح سویرے بسوں میں سوار کر کے مہاجرین کے رجسٹریشن کے مراکز منتقل کیا۔ حکام کے مطابق اسٹیشن سے ان مہاجرین کو دیگر مقامات پر منتقل کرنے کا عمل پرامن طریقے سے انجام پا گیا اور اس موقع پر کوئی ناخوش گوار واقع پیش نہیں آیا۔

پولیس کے مطابق رات کے وقت اس اسٹیشن میں موجود مہاجرین کی گنتی کی گئی تھی اور تعداد پانچ سو کے قریب تھی، تاہم پیر کی صبح اس اسٹیشن سے مہاجرین کے مراکز میں منتقل کیے جانے والے افراد قریب ساڑھے 13 سو تھے۔ پولیس کے مطابق پیرس کے دیگر مقامات سے بھی مہاجرین پیر کی صبح تک اس کیمپ میں پہنچ گئے تھے۔

Frankreich Räumung eines Flüchtlingslagers in Paris

یہ اسٹیشن تیسری بار خالی کرایا گیا ہے

بتایا گیا ہے کہ ان مہاجرین میں بڑی تعداد سوڈانی اور افغان باشندوں کی ہے، جب کہ ان افراد کو مہاجرین کے دیگر مراکز پر منتقل کرنے کے عمل میں ڈیڑھ سو پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔

ایک 24 سالہ افغان مہاجر مصطفیٰ کا اس موقع پر کہنا تھا، ’’ہم اس جگہ سے منتقلی پر خوش ہیں۔‘ اس جگہ ہر رات کو مہاجرین کی آپس میں لڑائی ہوا کرتی تھی۔‘‘

ایک اور افغان مہاجر کا کہنا تھا کہ وہ برطانیہ پہنچنا چاہتا تھا، تاہم اس کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں اور اب وہ فرانس ہی میں کوئی کام ڈھونڈنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ اس میٹرواسٹیشن کے آس پاس سینکڑوں افراد خیمے لگائے ہوئے تھے اور کچرہ دان کوڑے کرکٹ سے بھرے ہوئے تھے، جب کہ ہر طرف گندگی کے ڈھیر دکھائی دے رہے تھے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے اس میٹرو اسٹیشن کے آس پاس ہر طرف گدے نظر آ رہے تھے اور حالات روز بروز دگرگروں ہوتے دکھائی دیتے تھے۔

مقامی حکام کے مطابق امید کی جا رہی ہے کہ یہ مہاجرین فرانس ہی میں سیاسی پناہ کی درخواست دیں گے، ’’ایسے افراد جو سیاسی پناہ کی درخواست نہیں دیں گے یا اچھے رویے کا مظاہرہ نہیں کریں گے، انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔ فرانس میں بدامنی اور افراتفری کی کوئی جگہ نہیں۔‘‘

گزشتہ برس فرانس میں قریب 80 ہزار افراد نے سیاسی پناہ کی درخواست دی، تاہم ہمسایہ یورپی ممالک کی نسبت فرانس مہاجرین کے مسئلے سے خاصا کم متاثر ہوا ہے۔ فرانس میں مہاجرین کا سب سے بڑا کیمپ شمال بندرگاہی علاقے کلے میں واقع ہے۔ اس مقام پر قریب پانچ ہزار مہاجرین پناہ گزین ہیں۔

اشتہار