پیرس میں ڈاکہ، لاکھوں یورو مالیت کی جیولری لوٹ لی گئی | حالات حاضرہ | DW | 11.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پیرس میں ڈاکہ، لاکھوں یورو مالیت کی جیولری لوٹ لی گئی

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں واقع مشہور زمانہ رٹس ہوٹل میں مسلح ڈاکوؤں نے ایک واردات کرتے ہوئے لاکھوں یورو مالیت کے زیورات چرا لیے۔ پولیس کے مطابق اس کارروائی کے فوراﹰ بعد تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فرانسیسی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیرس کے رٹس ہوٹل پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے پانچ ڈاکوؤں نے کئی ملین ڈالر کے زیورات چوری کر لیے۔ بتایا گیا ہے کہ بدھ دس جنوری کی شام پیرس کے مشہور رِٹس ہوٹل میں واقع کئی دوکانوں کے شیشے توڑتے ہوئے ان ڈاکوؤں نے یہ زیورات چرائے۔

ایک درجن سے زائد پولیس اہلکار چوری کے جرم میں گرفتار

بھارت، چلتی ٹرین میں لاکھوں ڈالرکا ڈاکہ

کاغذی پرچی کے ساتھ سنگاپور کا بینک لوٹنے والا کینیڈین گرفتار

مقامی میڈیا کے مطابق تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بدھ کی رات اس واردات کے بعد جب یہ ڈاکو فرار ہونے کی کوشش میں تھے، تو ان میں سے تین پکڑ لیے گئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباﹰ چار تا پانچ ملین یورو کے زیورات چوری کیے گئے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ واردات بدھ کی شام مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجے ہوئی۔ اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ اس ڈاکے کے فوری بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ اسی دوران تین مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا جبکہ باقی دو مشتبہ ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے۔

Raubüberfall Ritz Hotel in Paris (picture-alliance/dpa/Maxppp/O. Corsan)

پولیس نے کچھ زیورات بازیاب بھی کرا لیے ہیں

رٹس ہوٹل کے ایک ملازم نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ’’ہم نے اونچی آوازیں سنیں، سڑک پر ہنگامہ آرائی محسوس ہوئی۔ سڑک پر موجود کچھ لوگ ہوٹل کے اندر داخل ہو گئے اور تب تک ہمیں یہ پتہ نہ چلا کہ مسئلہ کیا ہے۔ پھر کسی نے ہمیں بتایا کہ باہر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔‘‘ رٹس ہوٹل میں جیولری کے کئی مشہور برانڈز نے اپنے قیمتی زیورات ڈسپلے کر رکھے ہیں، جو سڑک سے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ملکی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اس واردات کے بعد پولیس کی فوری کارروائی اور مشتبہ افراد کی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے انتہائی مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق استغاثہ نے اس ڈاکے کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ قانونی عمل شروع کر دیا ہے۔

DW.COM