پیرس حملوں سے یورپی مسلمانوں کی پریشانی بڑھے گی | معاشرہ | DW | 16.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پیرس حملوں سے یورپی مسلمانوں کی پریشانی بڑھے گی

یورپی مسلمان علماء کا خیال ہے کہ پیرس حملوں سے اِس براعظم میں مقیم مسلمانوں کو نفرت اور تعصب کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ادیان کے درمیان مکالمت کے باوجود اسلام کا تشخص بطور مذہب مسخ ہو رہا ہے۔

پیرس حملوں سے یورپی مسلمانوں کی پریشانی بڑھے گی

یورپی مسلمان علماء کا خیال ہے کہ پیرس حملوں سے اِس براعظم میں مقیم مسلمانوں کو نفرت اور تعصب کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ادیان کے درمیان مکالمت کے باوجود اسلام کا تشخص بطور مذہب مسخ ہو رہا ہے۔

جرمنی کی پاڈربورن یونیورسٹی سے منسلک حامدہ محققی کا خیال ہے کہ پیرس حملوں کے منفی اثرات یقینی ہیں۔ محققی ایران میں پیدا ہوئیں اور وہ وکیل ہونے کے علاوہ پاڈربورن یونیورسٹی میں اسلامی دینی عقائد سے متعلق مضامین پڑھاتی ہیں۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ اِن حملوں کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ مسلمان کس انداز میں برتاؤ کرتے ہیں اور وہ معاشرے میں کیسا رویہ اپناتے ہیں۔ حامدہ محققی جرمنی میں ادیان کے درمیان مکالمت کے سلسلے میں پیش پیش ہیں۔

منسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیٹلیف پولاک نے پیرس حملوں کے بعد کی صورت حال پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ مذہبی عمرانیات کے استاد ہونے کی حیثیت میں پروفیسر پولاک کا خیال ہے کہ ایسا یقینی دکھائی دیتا ہے کہ سارے یورپ میں مسلمانوں کا مجموعی امیج مزید خراب ہو جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں اُن کا گراف مسلسل زوال پذیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے مقامی یورپی باشندوں کو مشورہ دیا ہے کہ تازہ حملوں کے بعد وہ سنگین ردعمل کے اظہار سے گریز کریں۔ پروفیسر پولاک کے مطابق اسلامی جہادیوں اور مذہب اسلام میں بڑا فرق ہے۔

Dänemark Aarhus Treffen Anti-Islam

ڈنمارک میں اسلام مخالف جلوس میں شامل ایک پوسٹر

پیرس حملوں کے تناظر میں جرمنی کی منسٹر یونیورسٹی کے ماہرِ عمرانیات کا خیال ہے کہ حملہ آور اپنے اِن حملوں سے مسلمانوں کو یورپ کی اکثریتی آبادی کے دھارے کے علاوہ مغرب کی جمہوری معاشرت سے علیحدہ کرنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ ایسے حملہ آور مسلمانوں کو ایک علیحدہ کمیونٹی کے طور پر یورپ کے خلاف کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور ایسی صورت میں غیرضروری ردِعمل معاملے کو مزید پیچیدہ کر دے گا۔ خاتون محقق حامدہ محققی کے خیال میں جرمنی میں مذاہب کی مکالمت کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں اور لوگوں میں باہمی اعتماد بڑھا ہے۔

یورپی براعظم کے ماہرین کا خیال ہے کہ اِس براعظم میں مسلم تنظیموں کی سیاسی فکر اور مثبت رویہ امن اور خیرسگالی کی مجموعی صورت حال و فضا پیدا کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایسے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک ایسی تنظیموں کی تمام کوششیں بظاہر فائدہ مند دکھائی نہیں دی ہیں کیونکہ اسلام پسند دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ آواز سامنے نہیں لائی جا سکی ہے اور اِس باعث اسلام سے نفرت کا رجحان یورپی آبادیوں میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔ حامدہ محققی نے حملہ آوروں کے رویے پر سوال اٹھایا ہے کہ وہ اگر اِسے دین پر عمل کرنا مراد لیتے ہیں تو وہ واضح کریں کہ یہ کونسا دین ہے۔ خاتون وکیل اور ٹیچر کے مطابق انفرادی سطح پر لوگ قران کی آیات کے معانی اپنی فکری ضرورت کے مطابق تراشنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اشتہار